نیکیوں کی حفاظت – ایکسپریس اردو

اللہ تعالی نے جو آپ کی قسمت میں لکھا ہے اس پر راضی ہو جائو، سب سے بڑے غنی بن جائو گے۔ فوٹو: فائل

اللہ تعالی نے جو آپ کی قسمت میں لکھا ہے اس پر راضی ہو جائو، سب سے بڑے غنی بن جائو گے۔ فوٹو: فائل

مسلمانوں کی اکثریت نیک کام تو کرتی ہے، مگر نیکیوں کی حفاظت نہ کرنے کی وجہ سے اعمال ضایع ہوجانے کا خطرہ رہتا ہے۔ آج کے موضوع میں وہ اہم کام گنوائے جائیں گے، جن کے کرنے سے آپ کی نیکیاں محفوظ رہیں گی۔ حرام چھوڑ دیں، آپ سب سے بڑے عبادت گزار بن جائیں گے۔

ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں جانتا ہوں ان لوگوں کو جو قیامت کے دن تہامہ پہاڑ کے برابر نیکیاں لے کر آئیں گے لیکن اللہ تعالیٰ ان کو اس غبار کی طرح کر دے گا جو اڑ جاتا ہے‘‘۔ ثوبان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کا حال ہم سے بیان کر دیجیے اور کھول کر بیان فرمائیے تاکہ ہم لاعلمی سے ان لوگوں میں نہ ہوجائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم جان لو کہ وہ لوگ تمہارے بھائیوں میں سے ہیں اور تمہاری قوم میں سے اور رات کو اسی طرح عبادت کریں گے جیسے تم عبادت کرتے ہو لیکن وہ لوگ یہ کریں گے کہ جب اکیلے ہوں گے تو حرام کاموں کا ارتکاب کریں گے۔‘‘ (سنن ابن ماجہ)

اللہ تعالی نے جو آپ کی قسمت میں لکھا ہے اس پر راضی ہو جائو، سب سے بڑے غنی بن جائو گے۔ کچھ لوگ دولت مند بننے کے خواہش مند ہوتے ہیں، مگر افسوس اللہ کی تقسیم پر راضی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دو بھوکے بھیڑیے جن کو بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیا جائے، اتنا نقصان نہیں پہنچاتے، جتنا کہ انسان کی حرص، جو مال و جاہ کے لیے ہو، اس کے دین کو نقصان پہنچاتی ہے۔‘‘ (ترمذی ) مطلب یہ ہے کہ انسان کی ساری جدوجہد اسی کام پر لگ جائے کہ عزت میں اور مال میں اضافہ ہو، دنیا میں میرا وقار بلند ہوجائے۔ یہ دو بڑی چیزیں انسان کو برباد کر دینے والی چیزیں ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ نے قسمت میں لکھ دیا ہے، اس پر راضی ہو جائیں تو دنیا کے سب سے بڑے غنی بن جائیں گے۔

اللہ تعالیٰ ساری ضروریات پوری کر دے گا اور تم سے بڑا دولت مند کوئی نہیں ہوگا۔ اگر مومن بننا چاہتے ہو تو پڑوسی سے حسن سلوک کرو۔ اہل محلہ اور پڑوس والوں سے حسن سلوک کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصی طور پر تلقین فرمائی ہے۔ مگر آج ہمیں اپنے پڑوسیوں کے نام تک نہیں آتے، اپنے پڑوسیوں سے حسن سلوک نہ کرنا بھی ہمارے نیک اعمال کو ضایع کردیتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو انسان پیٹ بھر کر سوئے اور اس کا ہمسایہ بھوکا سو جائے، اللہ کی قسم وہ مومن نہیں ہے۔ اچھا ہمسایہ انسان کی خوش بختی کی دلیل ہے اور انسان کی بدبختی یہ ہے کہ انسان کا ہمسایہ بُرا ہو۔

آپؐ نے فرمایا: تم اپنے پڑوسی کے ساتھ احسان کرنا شروع کردو، تم مومن بن جائو گے۔ اپنے پڑوسی کے ساتھ احسان کرنا ایمان کی دلیل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: جبریلؑ میرے پاس مسلسل آتے رہے اور آ کر مجھے پڑوسی کے بارے میں اتنی نصیحت کرتے رہے کہ مجھے یہ گمان ہوا کہ جبریل علیہ السلام ہمسائے کو ہمسائے کا وارث بنا دیں گے۔ آج ہمارے معاشرے میں ہمسائے کے حقوق کا خیال رکھنے کی شدید کمی ہے، بل کہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ کسی نہ کسی وجہ سے ہمارا ہمسایہ ہم سے پریشان ہے۔

آج میں جائزہ لوں کہ میرا ہمسایہ کتنے عرصے سے بیمار ہے، میں کبھی اس کی بیمار پرسی کے لیے نہیں گیا۔ جو اپنے لیے پسند کرو، وہ دوسروں کے لیے پسند کرو، تو مسلمان بن جائو گے۔ مگر معاملہ آج الٹ ہو گیا، میں دوسروں کی ذلت اور اپنی عزت کرانا چاہتا ہوں۔ مسلمان تو وہ ہے، جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ رہے۔ میں اپنی بھلائی کی دعا کرتا ہوں تو اپنے مسلمان بھائی کی بھلائی کی بھی دعا کروں، یہ اسلام ہے۔ اگر یہ جذبہ پیدا ہو جائے تو معاشرے میں خیر بھر جائے۔

کثرت سے ہنسنا بند کردو، یہ دلوں کو مردہ کر دیتا ہے۔ ہم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ زیادہ ہنسنے سے ہم زیادہ خوش حال نظر آئیں گے۔ لوگ اپنے اردگرد ایسا ماحول پیدا کرتے ہیں کہ انہیں زیادہ ہنسنے کا موقع ملے۔ لوگوں کو ہنسانے کے لیے فرضی باتیں کی جاتی ہیں، حالاں کہ اس طرح کرنے سے دل مردہ ہو جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار لعنت فرمائی، اس بندے کے لیے جو بندہ جھوٹ پر مبنی باتیں کرتا ہے، تاکہ لوگ اس پر ہنسیں۔ لوگوں کو ہنسانے سے دل مردہ ہوتے ہیں، اس سے جھوٹ بھی کثرت سے بولا جاتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چیز میں دیکھ رہا ہوں اگر تم بھی دیکھنا شروع کردو تو ہنسنا کم کردو اور رونا کثرت سے شروع کردو گے۔ اب تو بڑی سے بڑی چوٹ بھی دل پر اثر نہیں کرتی۔ جو زیادہ ہنستا ہے وہ اللہ کے عذاب سے غافل ہے۔

زیادہ ہنسنے سے بچو، اس دل مردہ ہوتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: لوگو تمہارے دلوں میں کوئی ایسا دل نہیں ہے، جس دل کی مثال چاند جیسی نہ ہو، چاند چمک رہا ہوتا ہے، روشنی پھیلا رہا ہوتا ہے کہ اچانک چاند کے سامنے بادل آ جاتے ہیں تو چمکتا ہوا چاند بے نُور ہوجاتا ہے۔ روشنی کھو بیٹھتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اسی طرح مثال ہے تمہارے دلوں کی جو اللہ تعالیٰ نے روشن اور چمکتے ہوئے بنائے تھے۔ لیکن اس دل پر گناہوں کے داغ دھبوں نے پردہ کر دیا ہے، جب تک یہ پردہ ہٹائو گے نہیں تمہارا دل منور نہیں ہوگا۔ ان دلوں پر بربادی ہے جو اللہ کے ذکر سے غافل ہو چکے ہیں۔ لہٰذا اپنی مجلسوں کو بابرکت بنائیں، پیارے پیغمبر ﷺ کا پیغام امت تک پہنچائیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں