زکوٰۃ: اسلام کا اہم رکن

زکوٰۃ کی پوری ادائی کے علاوہ بلاؤں اور آفات سے بچنے کے لیے راہ خدا عز و جل میں صدقہ بھی کرتے رہیں۔ فوٹو : فائل

زکوٰۃ کی پوری ادائی کے علاوہ بلاؤں اور آفات سے بچنے کے لیے راہ خدا عز و جل میں صدقہ بھی کرتے رہیں۔ فوٹو : فائل

زکوٰۃ، صاحبِِ نصاب پر فرض اور اسلام کا اہم رکن ہے۔ لہٰذا قرآن عظیم میں نماز کے ساتھ اس کا ذکر فرمایا اور بندوں کو اس اہم فرض کی طرف راغب کیا اور فرما دیا کہ یہ ہرگز نہ سمجھنا کہ زکوٰۃ سے مال کم ہوجاتا ہے، بل کہ اس سے تو مال میں اضافہ ہوتا ہے۔ بعض درختوں میں کچھ اجزائے فاسدہ اس قسم کے پیدا ہوجاتے ہیں کہ درخت کی نشو و نما کو روک دیتے ہیں۔ کوئی احمق و نادان انہیں اس لیے نہ تراشے کہ میرے درخت سے اتنا کم ہوجائے گا، لیکن عاقل و ہوش مند تو جانتا ہے کہ ان کے چھاٹنے سے چھوٹا سا پودا درخت بنے گا، ورنہ یوں ہی مرجھا کر رہ جائے گا۔

حضور پُرنور سید عالم ﷺ فرماتے ہیں : ’’ زکوٰۃ کا مال جس مال میں ملا ہوگا اسے تباہ و برباد کردے گا۔‘‘ یعنی جس مال کی زکوۃ ادا نہیں کی جائے گی تو وہ مال تباہ و برباد ہوجائے گا۔ دوسری حدیث میں ہے، حضورِ ﷺ فرماتے ہیں : ’’خشکی و تری میں جو مال تلف ہوا ہے وہ زکوٰۃ نہ دینے ہی سے تلف ہوا ہے۔‘‘ تیسری حدیث میں ہے حضور اقدس ﷺ فرماتے ہیں : ’’جس نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردی بے شک اللہ تعالیٰ نے اس سال مال کا شر اس سے دُور کردیا۔‘‘ارشاد باری تعالی ہے، ترجمہ کنزالایمان: ’’ جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اُن کی کہاوت اس دانہ کی ہے جس سے سات بالیں نکلیں۔ ہر بال میں سو دانے اور اللہ جسے چاہتا ہے زیادہ دیتا ہے اور اللہ وسعت والا ا ور بڑا علم والا ہے۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے، نہ اذیت دیتے ہیں اُن کے لیے اُن کا ثواب اُن کے رب کے حضور ہے اور نہ اُن پر کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اچھی بات اور مغفرت اس صدقے سے بہتر ہے جس کے بعد اذیّت دینا ہو اور اللہ بے پروا اور حلم والا ہے۔‘‘ ( البقرہ )

ترجمہ کنز الایمان : ’’ نیکی اس کا نام نہیں کہ مشرق و مغرب کی طرف منہ کر دو، نیکی تو اُس کی ہے جو اللہ اور پچھلے دن اور ملائکہ و کتاب و انبیاء پر ایمان لایا، اور مال کو اُس کی محبت پر رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر اور سائلین کو اور گردن چھٹانے میں دیا اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب کوئی معاہدہ کریں تو اپنے عہد کو پورا کریں اور تکلیف و مصیبت اور لڑائی کے وقت صبر کرنے والے وہ لوگ سچے ہیں اور وہی لوگ متّقی ہیں۔‘‘ ( البقرہ )ترجمہ کنزالایمان: ’’ جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اُسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ہیں، انہیں دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو، جس دن آتش جہنم میں تپائے جائیں گے اور اُن سے اُن کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیں داغی جائیں گی (اور اُن سے کہا جائے گا ) یہ وہ ہے جو تم نے اپنے نفس کے لیے جمع کیا تھا، تو اب چکھو جو جمع کرتے تھے۔ ( التوبہ )مفہوم: حضرت ابوہریرہ رضی اللہتعالیٰ عنہ سے مروی کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں : ’’ جس کو اللہتعالیٰ مال دے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن وہ مال گنجے سانپ کی صورت میں کردیا جائے گا۔ جس کے سر پر دو چوٹیاں ہوں گی۔ وہ سانپ اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا۔ پھر اس کی باچھیں پکڑے گا اور کہے گا، میں تیرا مال ہو ں، میں تیرا خزانہ ہوں۔‘‘مفہوم: ’’حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں جو قوم زکوٰۃ نہ دے گی اللہ تعالیٰ اسے قحط میں مبتلا فرمائے گا۔‘‘ (المعجم الاوسط)

مفہوم: ’’حضرت احنف بن قیس رضی اللہتعالیٰ عنہ سے مروی کہتے ہیں، میں قریش کی ایک جماعت میں تھا تو حضرت ابوذرؓ گزرے وہ کہہ رہے تھے کہ مال جمع کرنے والوں کو سنا دو کہ (جس مال کی زکوٰۃ نہ نکالی گئی ) مال ان کی پیٹھ توڑ کر کروٹ سے نکلے گا اور گدی توڑ کر پیشانی سے۔‘‘ (صحیح مسلم)

مفہوم : ’’ امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ’’ اللہ تعالیٰ نے مسلمان مال داروں پران کے مال میں فقیروں کی قدر کفایت بھر زکوٰۃ فرض فرمائی ہے تو فقیر ہرگز ننگے بھوکے ہونے کی تکلیف نہ اُٹھائیں گے، مگر مال داروں کے ہاتھوں۔ سن لو، ایسے تونگروں (مال داروں) سے اللہتعالیٰ سخت حساب لے گا اور انہیں دردناک عذاب دے گا۔‘‘ ( الترغیب والترھیب )

مفہوم : ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہتعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکا ر دوعالم ﷺ فرماتے ہیں کہ جنت میں پہلے تین شخص جائیں گے۔ ٭ شہید ٭ وہ غلام جس نے اپنے رب کی اچھی طرح عبادت کی اور اپنے آقا کی خیر خواہی کی۔ ٭ اہل و عیال والا پاک دامن پارسا شخص۔ اور دوزخ میں سب سے پہلے تین شخص جائیں گے۔ ٭ ظالم امیر ٭ وہ تونگر (مال دار) جو اپنے مال سے اللہ عز و جل کا حق ادا نہیں کرتا ہے ٭ فخر کرنے والا فقیر۔‘‘

اس کا مشاہدہ بار بار ہوتا رہتا ہے، کہ اچانک آفات سماوی یا ارضی کی وجہ سے کبھی مال ہی برباد ہوجاتا ہے اور کبھی غیر ضروری اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ مثلاً مال بیماری، مقدمے بازی اور رشوت کی نذر ہوجاتا ہے، اور کبھی مال تو موجود ہی رہتا ہے مگر برکت اٹھالی جاتی ہے۔ وافر آمدن کے باوجود بہ مشکل دو وقت کی روٹی کا خرچ پورا ہوتا ہے۔ اور پھر شیطان ہما را ذہن اصل سبب سے جادو، ٹونوں کی طرف موڑ دیتا ہے، کوئی سمجھتا ہے ہما رے رشتے داروں نے ہم پر جادو کردیا ہے، اور کوئی اسے جنات کی کارستانی سمجھتا ہے، چناں چہ پھر وہ پیری، فقیری کا لبادہ اوڑھے ہوئے ٹھگوں کے ہاتھ چڑھتے ہیں، اور بہت سا مال ان کی نذر کرکے ضایع کرتے ہیں۔

ال غرض دنیا میں حکم رانوں سے لے کر عام شہری تک ہر کوئی معیشت کا رونا روتا نظر آتا ہے۔ لیکن اہم سبب کی طرف کوئی غور نہیں کرتا، کہ ہم وقت پر پوری زکوٰۃ ادا کریں، بل کہ زکوٰۃ کی پوری ادائی کے علاوہ بلاؤں اور آفات سے بچنے کے لیے راہ خدا عز و جل میں صدقہ بھی کرتے رہیں کہ حدیث شریف میں ہے کہ صدقہ بلاؤں کو ٹال دیتا ہے، لہٰذا یہ بات مسلّم ہے کہ ہما ری معاشی پریشانیوں اور رزق میں بے برکتی کے بڑے سبب کا مؤثر حل وقت پر زکوٰۃ ادا کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں