طلاق کا بڑھتا ہوا رجحان

غصّے کے وقت خاموشی اختیار کریں۔ بحث سے جتنا ممکن ہوسکے بچیں۔ معمولی باتوں پر لڑنے کے بہ جائے درگزر سے کام لیں۔ فوٹو: فائل

غصّے کے وقت خاموشی اختیار کریں۔ بحث سے جتنا ممکن ہوسکے بچیں۔ معمولی باتوں پر لڑنے کے بہ جائے درگزر سے کام لیں۔ فوٹو: فائل

والدین کے لیے وہ دن کتنا سہانا ہوتا ہے کہ جب وہ اپنی اولاد کو رشتۂ ازدواج میں منسلک کردیتے اور خوشی سے نہال ہوتے ہیں کہ ان کے ناتواں کندھوں سے ایک بھاری ذمے داری کا بوجھ اتر گیا۔ وہ اپنے آپ کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کرتے ہیں۔ لیکن شادی کے کچھ ہی عرصے بعد جب اُس جوڑے کی آپس میں نہیں بنتی، روز کے چھوٹے موٹے جھگڑے بڑھ جاتے ہیں اور نوبت طلاق تک آپہنچتی ہے، تب والدین کو ایسا شدید صدمہ ہوتا ہے جو انہیں اندر سے مکمل طور پر ہلا کر رکھ دیتا ہے۔

یہ صرف ایک گھر کا نہیں بل کہ دونوں خاندانوں کا چین و سکون چھین لیتا ہے۔ طلاق، گھروں کے گھر اجاڑ دیتی ہے۔ بدنصیبی سے ہمارے سماج میں بھی یہ ایک سنگین صورت حال اختیار کرچکی ہے۔ اب تو معمولی رنجشوں پر بھی طلاق عام ہے۔ جس میں سر فہرست صبر و برداشت کی کمی ہے۔

قران مجید میں ارشاد باری تعالی کا مفہوم ہے کہ اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تم میں سے تمہارے لیے جوڑ بنایا تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرسکو اور تمہارے درمیان مودت و رحمت رکھ دی گئی ہے۔ بے شک اس میں عقل والوں کے لیے نشانی ہے۔ میاں بیوی کا رشتہ ایک پاکیزہ رشتہ ہے۔

جو سنت نبویؐ کے مطابق نکاح کرنے کے بعد وجود میں آتا ہے۔ یہ محض کئی گھنٹوں یا برسوں کا نہیں بل کہ زندگی بھر کے ساتھ کا نام ہے۔ اس لیے اس میں سمجھ داری اور حکمت سے کام لینا چاہیے تاکہ اس رشتے کو مضبوطی سے برقرار رکھا جائے۔ کیوں کہ جب اینٹیں جُڑتی ہیں تو مکان بنتے ہیں اور جب دل جڑتے ہیں تو گھر بستے ہیں۔ اللہ رب العزت نے مسلمانوں کے لیے جتنا پاکیزہ رشتہ بنایا ہے اتنا اس کو احسن طریقے سے نبھانے کے گُر بھی بتائے ہیں۔

اسی طرح بلاوجہ اسے توڑنے کو سخت ناپسند فرمایا ہے۔ طلاق کے بارے میں ارشاد نبویؐ کا مفہوم ہے کہ مباح چیزوں میں خدا کے نزدیک مبغوض ترین چیز طلاق ہے۔ ہاں! شریعت میں اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ اگر مرد اور عورت ایک دوسرے کو ناپسند کرتے ہوں اور علیحدگی چاہتے ہوں تو کوئی ممانعت نہیں۔ آج معاشرے میں طلاق عام ہوتی جارہی ہے اور معمولی باتوں پر گھر اجڑ رہے ہیں۔ آخر طلاقیں کیوں بڑھ رہی ہیں ؟

آج کے دور میں مرد ہو یا عورت دونوں میں صبر و برداشت کا مادہ ختم ہوتا جا رہا ہے اور بنیادی وجہ یہی ہے کہ گھروں میں لڑائی جھگڑے بڑھتے جاتے ہیں۔ زبان درازی عام ہے اور چھوٹی سی بات تُو تُو میں میں سنگین صورت اختیار کر جاتی ہے۔ مرد غصے میں ایک بات کرتا ہے تو بیوی آگے سے چار سناتی ہے۔ بس پھر یہی سلسلہ چلتا ہوا طلاق تک آ پہنچتا ہے۔ اگر دونوں صبر کا مظاہرہ کریں اور مرد کے ساتھ عورت بھی زبان پر قابو رکھے تو گھر کو نار کے بہ جائے گل زار بنا سکتی ہے۔

بے اولادی: خود سوچیے کیا اولاد نرینہ کا ہونا نہ ہونا عورت کے اختیار میں ہے ؟ قران مجید میں ارشاد باری تعالی کا مفہوم ہے کہ آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اللہ تعالی ہی کے لیے ہے وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے۔ جس کو چاہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہے بیٹا دیتا ہے یا انہیں (بیٹے اور بیٹیاں ) جمع کر کے دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے وہ بڑے علم والا اور کامل قدرت والا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اولاد کی عطا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اور اگر نرینہ اولاد کے خواہش مند افراد دوسری شادی کرنا چاہیں تو بیوی جھٹ یہ کہہ کر طلاق کا مطالبہ کردیتی ہے کہ یہاں میں رہوں گی یا وہ رہے گی۔ کئی جگہ تو یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ مرد حضرات دوسری بیوی کی خاطر پہلی کو طلاق دے دیتے ہیں۔ یہ انتہائی بُرا عمل ہے کہ وہ ایک کا گھر آباد کرنے کی خاطر دوسری کا گھر برباد کر دیتے ہیں۔

شریعت نے مرد کو دوسری شادی کی اجازت دی ہے بہ شرطے کہ وہ دونوں میں برابری رکھ سکے اور ان کے حقوق اچھے طریقے سے ادا کرے اور کسی قسم کی کوتاہی نہ کرے۔ کیوں کہ اس بارے میں بھی جواب دینا ہوگا۔ ہر وقت سیل فون اور سوشل میڈیا کا بے جا اور غیر ضروری استعمال بھی طلاق کا سبب بن رہا ہے، اس لیے انہیں استعمال کرنے میں حد درجہ محتاط رہنا چاہیے۔

بے جوڑ رشتے بھی طلاق کا ایک اہم سبب ہیں۔ کئی والدین اپنی اولاد کے لیے بڑے ہی سہانے سپنے دیکھتے ہیں جیسے اچھا بنگلہ ہو، عیش و عشرت کی زندگی ہو، لڑکا اچھا کمانے والا ہو اور خود مختار ہو اور بیٹی جب اپنے سے اونچے گھر میں جاتی ہے تو وہاں کے ماحول میں خود کو ڈھال نہیں پاتی یا کبھی کبھار کچھ ایسے مسائل رونما ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے ساری زندگی کے لیے طلاق کا دھبا لیے گھر میں آبیٹھتی ہے۔ کئی جگہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ دین دار والدین اپنی بیٹی کو بے دین لڑکے کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ لڑکی جب لڑکے کو دین کی طرف مائل کرنا چاہتی ہے تو لڑکا اپنے جواز پیش کرتا ہے اور پھر طلاق تک نوبت چلی جاتی ہے۔

والدین سے گزارش ہے کہ خدارا! اپنے بچوں کی زندگی مت خراب کریں، انہیں اس بندھن میں جوڑنے سے پہلے خوب دیکھ بھال کرلیں۔ اپنی حیثیت کے مطابق رشتے کریں اور اپنے بچوں کی تربیت ایسے خطوط پر کریں کہ وہ دوسرے گھر کو بھی اپنا سمجھیں اور اپنے آپ کو اسی ماحول میں ڈھالیں اور سب سے اہم بات یہ کہ ان کو صبر و برداشت کی تلقین کریں۔ تاکہ وہ اپنے گھر کو سنواریں اور اسے برباد ہونے سے بچائیں۔ نوجوان نسل سے بھی گزارش ہے کہ اپنے دلوں میں وسعت پیدا کریں، اگر دونوں میں کسی ایک سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو معذرت میں پہل کریں۔ غصے کے وقت خاموشی اختیار کریں۔ بحث سے جتنا ممکن ہوسکے بچیں۔ معمولی باتوں پر لڑنے کے بہ جائے درگزر سے کام لیں، تاکہ آپ کا گھر امن کا گہوارہ بن سکے۔

اللہ پاک ہمیں سمجھ عطا فرمائے اور ہمارے گھروں کو جنت کا باغ بنائے۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں