شعبان المعظم استقبالِ رمضان المکرّم

ہمیں یہ علم ہونا چاہیے کہ رسول کریمؐ رمضان المکرّم کا استقبال کیسے فرماتے تھے۔ فوٹو : فائل

ہمیں یہ علم ہونا چاہیے کہ رسول کریمؐ رمضان المکرّم کا استقبال کیسے فرماتے تھے۔ فوٹو : فائل

شعبان المعظم ہمارے سر پر سایہ فگن ہے، یہ وہ ماہِ مبارک ہے جسے محسنِ کائناتؐ نے اپنا مہینہ قرار دیا ہے، اس ماہ کی عظمت کے لیے صرف یہی کافی ہے۔

رسالت مآبؐ کا اسوۂ حسنہ ہمارے لیے راہ نجات قرار دیا گیا ہے اور آپؐ کے اسوۂ حسنہ پر عمل پیرا ہونے ہی میں دنیا و آخرت میں انسانیت کی فوز و فلاح کا راز پوشیدہ ہے۔  ہمیں اس پُرآشوب دور میں اللہ کی رسی کو تھام کر رسولِ کریمؐ کے بتائے اور سکھائے ہوئے طریقے پر اپنا جیون بسر کرنا چاہیے کہ بس یہی اس دور کے فتنوں سے بچاؤ کا سیدھا اور آسان راستہ ہے۔ جب یہ بات طے ہوگئی کہ صرف رسول کریمؐ کے اسوۂ حسنہ ہی میں راہِ نجات و فوز و فلاح ہے تو ہمیں کسی بھی عمل سے پہلے ہمیشہ یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس عمل میں آپؐ کا فرمانِ مقدس کیا ہے۔ تو اب ہمیں یہ علم ہونا چاہیے کہ رسول کریمؐ رمضان المکرّم کا استقبال کیسے فرماتے تھے۔

حضور نبی اکرم ﷺ رمضان المبارک سے اتنی زیادہ محبت فرماتے کہ اکثر اس کے پانے کی دْعا فرماتے تھے اور رمضان المبارک کا اہتمام ماہ شعبان ہی میں روزے کی کثرت کے ساتھ ہو جاتا تھا۔ آپ ﷺ انتہائی شوق و محبت سے ماہ رمضان کا استقبال فرماتے۔

حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ جیسے ہی ماہ رجب کا چاند طلوع ہوتا تو آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا فرماتے : ’’اے اللہ! ہمارے لیے رجب، شعبان اور (بالخصوص) ماہ رمضان کو بابرکت بنا دے۔‘‘

حضرت اْسامہ بن زیدؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ! جس قدر آپؐ شعبان میں روزے رکھتے ہیں اس قدر میں نے آپؐ کو کسی اور مہینے میں روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا! آپؐ نے فرمایا: ’’ یہ ایک ایسا مہینا ہے جو رجب اور رمضان کے درمیان میں (آتا) ہے اور لوگ اس سے غفلت برتتے ہیں حالاں کہ اس مہینے میں (پورے سال کے) عمل اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھائے جاتے ہیں، لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ میرے عمل روزہ دار ہونے کی حالت میں اْٹھائے جائیں۔‘‘

اُمّ المومنین حضرت اُمّ سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو مسلسل دو ماہ تک روزے رکھتے نہیں دیکھا، مگر آپ ﷺ شعبان المعظم کے مبارک ماہ میں مسلسل روزے رکھتے کہ وہ رمضان المبارک کے روزہ سے مل جاتا۔

ماہ شعبان میں روزوں اور تلاوتِ قرآن حکیم کی کثرت اِس لیے کی جاتی ہے کہ ماہ رمضان کی برکات حاصل کرنے کے لیے مکمل تیاری ہوجائے اور بندہ، خالق کی اِطاعت پر خوش دلی اور اطمینان سے راضی ہو جائے۔ صحابہ کرامؓ جن کے بارے میں رسول کریمؐ نے فرمایا کہ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، کسی کی اقتداء کرو گے تو فلاح کا راستہ پاجاؤ گے، کے معمولات سے اِس حکمت کی تائید بھی ہو جاتی ہے۔ حضرت انسؓ شعبان میں صحابہ کرامؓ کے معمول پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’شعبان کے شروع ہوتے ہی مسلمان قرآن کی طرف جھک پڑتے، اپنے اَموال کی زکوۃ نکالتے تاکہ غریب، مسکین لوگ روزے اور ماہ رمضان بہتر طور پر گزار سکیں۔‘‘

رمضان المبارک نیکی، برکت، بخشش، عنایت، توفیق، عبادت، زہد، تقوی، مروت، خاک ساری، مساوات، صدقہ و خیرات، رضائے الہی، جنت کی بشارت اور جہنم سے خلاصی کا مہینا ہے۔ اس ماہ مقدس میں مومن کے اندر فکر آخرت کے لیے خالق سے ملاقات کی خواہش بیدار ہوتی ہے۔ یہ رب کی طرف سے اس پر ایمان لانے والوں کے لیے عظیم تحفہ ہے۔ اب ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ اس ماہ عظیم الشان کا استقبال ویسے ہی کریں جیسے محسن کائناتؐ کا فرمان ہے۔

جب آپ کے گھر کسی اعلی مہمان کی آمد ہوتی ہے تو آپ بہت تیاری کرتے ہیں۔ ان کے لیے اپنی آنکھیں تک بچھا دیتے ہیں، پورے گھر میں خوشی کا ماحول ہوتا ہے۔ مہمان کی خاطر تواضع کے لیے انواع و اقسام کے پُرتکلف پکوان تیار کیے جاتے ہیں۔ اب سوچیے کہ جب ایک مہمان کے لیے اس قدر تیاری تو مہمانوں میں سب سے اعلی اور رب کی طرف سے بھیجا ہوا مہمان ہو تو اس کی تیاری کس قدر شان دار ہونا چاہیے۔

رمضان کا مہینا انتہائی عظیم ہے، اس کی عظمت کا احساس اور قدر و منزلت کا لحاظ آمد رمضان سے قبل ہی ذہن و دماغ میں پیوست کرلیا جائے تاکہ جب رمضان میں داخل ہوں تو غفلت، سستی، بے اعتنائی، ناقدری، ناشکری، احسان فراموشی اور صیام و قیام سے بے رغبتی کے اوصاف رذیلہ پیدا نہیں ہوں۔ رمضان المبارک جہاں رب کا مہمان ہے وہیں اس کی طرف سے ایک عظیم نعمت بھی ہے اس کی قدر کرنا چاہیے۔ رمضان جیسا مہینا نصیب ہونا بھی ایک نعمت ہے اور صحت و تن درستی اس پہ مستزاد ہے۔

ان نعمتوں کا احساس کیوں نہ کریں کہ ان نعمتوں کے بدلے ہمیں ہر قسم کی نیکی کی توفیق ملتی ہے۔ روزہ، نماز، صدقہ، خیرات، دعا، ذکر، رجوع الی اللہ، توبہ، تلاوت، مغفرت اور رحمت ان نعمتوں کی دین ہے۔ ہمارا یہ فرض ہے کہ دنیا سے رخ موڑ کے اللہ کی طرف لوٹ جائیں۔ رجوع الی اللہ، عظمت اور نعمت کے احساس میں مزید قوت پیدا کرے گا۔ اللہ کی طرف لوٹنا صرف رمضان کے لیے نہیں ہے بل کہ مومن کی زندگی ہمیشہ اللہ اور اس کے پیارے حبیب کریمؐ کی مرضی و منشاء کے مطابق گزرنی چاہیے۔

عبادت کو اللہ کے لیے خالص کریں اور اس پہ مکمل اعتماد کریں، اللہ کو سارے جہاں کا حاکم مانیں، خود کو اس کا فقیر اور محتاج جانیں، کسی غریب و مسکین کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں، ناداروں کی اعانت کریں، اور یہ کام اس لیے بھی ضروری ہے کہ رب کی مخلوق کی خدمت کرنا خالق کائنات تک پہنچنے اور اس کی رضا کے حصول کا آسان راستہ ہے، اس سے قطعا کوتاہی نہیں کرنا چاہیے بل کہ اس ماہ میں تو ناداروں پر اپنی استطاعت سے بھی زیادہ خرچ کو معمول بنائیے۔ بیماری و مصیبت میں صرف اسی کی جانب رجوع کیجیے۔ رمضان میں گناہوں سے سچی توبہ کریں اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم مصمم کرلیں۔ نیکی کو اگر پھیلانا اور رمضان المبارک کی برکتوں، رحمتوں، نعمتوں، بخششوں اور نیکیوں کو بچانا چاہتے ہیں تو بدی سے مکمل اجتناب کریں۔

رمضان بھلائی کمانے کے واسطے ہے، اللہ تعالی مومنوں کو متعدد طریقے سے اس مہینے میں بھلائی سے نوازتا ہے، ہمیں ان بھلائیوں کے حصول کی خاطر رمضان سے پہلے ہی کمربستہ ہوجانا چاہیے اور مواقع حسنات سے مستفید ہونے کے لیے بہ رضا و رغبت ایک خاکہ تیار کرنا چاہیے تاکہ ہر قسم کی بھلائیاں سمیٹ سکیں۔ غور و فکر کے ساتھ سوچ سمجھ کر قرآن پڑھنے کا اہتمام، پنچ وقتہ نمازوں کے علاوہ نفلی عبادات، صدقہ، خیرات، ذکر و اذکار، دعا و مناجات، طلب عفو و درگذر، قیام اللیل کا خاص خیال، مستحب اعمال، دروس و بیانات میں شرکت، اعمال صالحہ پہ محنت و مشقت اور زہد و تقوی سے مزیّن ہونے کا مکمل خاکہ ترتیب دیں اور اس خاکے کے مطابق رمضان المبارک کا روحانی و مقدس مہینا گزاریں۔ مسجد میں حاضر رہنا، تراویح میں پیش پیش رہنا، نیکی کی طرف دوسروں کو دعوت دینا، منکرات کے خلاف حکمت عملی اور صالح معاشرہ کی تشکیل کے لیے جدوجہد کرنا بھی ہمارے معمولات کا حصہ ہونا چاہیے۔

فرض و واجبات کی ادائی اور توبہ و استغفار اور اپنے نفس کو تقوی کا پابند بنائیے۔ صلۂ رحمی میں جلدی اور پہل کیجیے۔ قلب کی تطہیر، دعاؤں کو معمول، صدقہ و خیرات کو مقدم ، کثرت تلاوت کو معمول اور شب بیداری کی عادت بنا لیجیے۔ انٹرنیٹ و سوشل میڈیا سے مکمل احتراز اور رمضان سے پہلے خریداری کرلیجیے۔ نوکر، خادم اور ملازم پر کاموں کا بوجھ ہلکا کر دیجیے۔ زیادہ سے زیادہ وقت مسجد میں گزاریے۔ تکبیر اولیٰ کے ساتھ نمازیں پڑھیے۔ ملاقاتوں کا سلسلہ محدود کردیجیے۔ بچوں کو روزے کی عادت ڈالیے اور کم کھانے کی عادت اپنائیے۔

اللہ تعالی ہمیں رمضان کا بہترین استقبال کرنے، اس مہینے سے ہر طرح کا فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرے اور رمضان میں بہ کثرت اعمال صالحہ انجام دینے کی توفیق دے اور ان اعمال کو آخرت میں ہماری نجات کا ذریعہ بنائے۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں