حضور سرور کائناتؐ کا منفرد اعزاز

آپؐ کے نقشِ کف پا کی تلاش و جستجو میں عالم انسانیت توکیا، عالم بالا کے مکین بھی سرگرداں نظر آتے ہیں۔ فوٹو : فائل

آپؐ کے نقشِ کف پا کی تلاش و جستجو میں عالم انسانیت توکیا، عالم بالا کے مکین بھی سرگرداں نظر آتے ہیں۔ فوٹو : فائل

یہ حقیقت کسی بھی شک و شبہے سے بالاتر ہے کہ خالق ارض و سما کی مدح و توصیف کے بعد اس کائنات رنگ و بُو میں اگر کوئی کام سب سے اعلیٰ و بالا ہے تو وہ مدح ممدوح رب العالمین ہے۔

حضور سیّد دو عالم ﷺ کی مدح و ثنا محض ایک روایتی و رسمی بات نہیں، بل کہ یہ ایک ایسا امر لازم و واجب ہے کہ خالق کائنات جس کا حکم اہل ایمان کو دے نہیں رہا، بل کہ عملاً اس ارفع و مہتمم بالشان سعادت میں خود خدائے بزرگ و برتر اور اس کے ملائک شریک ہیں۔ اور توصیف رسول کریم ﷺ کے لیے کسی وقت کا تعین بھی نہیں ہے۔

ہر لحظہ حکم خدا کی متابعت میں کائنات ہست و بود اور اس کی بُوقلمونیاں زمین و آسمان اور شش جہات، زمین کی پستیاں اور افلاک کی وسعتیں، خورشید و قمر اور ان کی زیبائیاں، نجوم و کہکشاں اور ان کی تابشیں، شب کی ظلمتیں اور دن کے اجالے، چمنستان دہر کی رنگینیاں اور گُل ہائے رنگا رنگ اور ان کی عنبر فشانیاں، سمندر کی تلاطم خیز موجیں اور دریاؤں کی بیکرانیاں، ابلتے ہوئے چشموں کا ترنم اور نسیم صبح کے جاں فزا جھونکے، سلسلہ ہائے کوہ و دمن اور ریگ زار دہر کی لامحدود وسعتیں غرض دنیا و مافیہا، آقا و مولیٰ ﷺ کی ثناء خوانی میں مصروف ہیں۔

انبیاء و رسلؑ میں سے ہر ایک کا اپنا اپنا مقام ہے، کوئی آدم صفی اللہ، کوئی موسیٰ کلیم اللہ، کوئی ابراہیم خلیل اللہ ہے تو کوئی اسمٰعیل ذبیح اللہ، کوئی حُسن میں بے مثل ہے تو کوئی معجزات میں بے عدیل، لیکن ان تمام تر عظمتوں اور رفعتوں کے باوصف کوئی نبی و رسول ایسا نہیں جس پر براہ راست اللہ اور اس کے فرشتے ہمہ وقت دُرود و سلام کی برسات کر رہے ہوں۔ نہ صرف خود مصروف ثناء ہوں، بل کہ اہل ایمان کو حکم دیا جارہا ہو کہ تم بھی اس سعادت میں شامل ہوجاؤ۔ یہ عزت و شرف، یہ توقیر و کمال صرف اور صرف مرکز ارادت ارض و سما حضور سید المرسلین ﷺ کی ذات والا صفات کو حاصل ہے جن کے جمال جہاں آراء کے لیے یہ عالم بالا و عالم امکان مدون کیا گیا ہے۔

فرش گل و لالہ سے کواکب کے جہاں تک

تخلیق دو عالم ہے تقاضائے محمد ﷺ

سیرت نگاری کا عمل اسی وقت سے خلق ہوگیا تھا جس لمحے حضور سیّد دو عالم ﷺ کی جلوہ نمائی کا آغاز ہوا۔ مرئی اور غیرمرئی، محسوس و غیر محسوس طریقے سے یہ باعث نجات و مغفرت کام ارتقاء پذیر ہوتا رہا۔ بڑی بڑی فصیح اللسان اور سر تا پا بلاغت و فصاحت ہستیاں صفحۂ قرطاس پر اپنے اپنے انداز میں آپؐ کے کردار و گفتار مبارک کے ذکر جمیل سے عقیدت و محبت کا اظہار کرتی چلی آرہی ہیں۔ اس ذکر پُرتاثیر میں ایک لحظے کے لیے انقطاع واقع نہیں ہوا۔ کیوں کہ حضور ﷺ کے ذکر کثیر کا وعدہ اور اعلان خود خالق کائنات نے کیا ہوا ہے۔

تکمیل ایمان، آقا ﷺ کے ذکر سے ہی ممکن ہوسکی ہے۔ اذان ہو یا نماز دونوں ذکر محمد عربیؐ کے بغیر نامکمل و ادھوری ہیں۔ ایسا کیوں نہ ہو، جس خیر الخلائق ہستی نے بحر ظلوم و جہول میں ہچکولے کھاتے ہوئے سفینۂ آدمیت کو ساحل مراد سے ہم کنار کیا ہو، جس نے رکوع و سجود سے ناآشنا جبینوں کو اس ذات بے ہما کے آستان مقدس سے آشنائی کا شرف بخشا ہو، جس نے خُوگران قتل و غارت گری کو ثروت محبت و شفقت سے مالامال کیا ہو، جس نے آشفتہ سران جہالت کو تابش دین مبین سے جگمگا دیا ہو، جس نے برہنہ سر بیواؤں کو ظِلّ عاطفت اور ردائے شفقت سے نواز دیا ہو۔

جس نے ذرّوں کو حریف آفتاب و کہکشاں بنا دیا ہو، جس نے شبِ تارِ الست کو صبح دل کشا کی رنگینیوں میں بدل دیا ہو، جس نے طائف کے بازاروں میں اعلائے کلمۃ الحق کی پاداش میں اعدائے دین کی گالیوں اور سنگ زنی کے جواب میں گل ہائے محبت و شفقت فضا میں بکھیر دیے ہوں۔ جس نے فاران کی چوٹیوں سے لاالہ الا اللہ کی صدا بلند کرکے ایوان ہائے کفر و شرک کو لرزہ بر اندام کردیا ہو۔ جس نے جاء الحق و زھق الباطل ( حق آیا اور باطل چلا گیا ) کی ندائے پُرجلال سے خرمن شرک کو جلا کر خاکستر کر دیا ہو، جو حُسن یوسف، دَم عیسیٰ ید بیضا داری کا مجرد و مصداق ہو، انبیاء و رسل جس کی امت میں اپنی تمنائے آفرینش کرتے رہے ہوں۔ شب معراج، قبلۂ اول کے در و دیوار جس کے شرف زیارت کے لیے بے قرار نظر آتے ہوں۔ ا

نبیاء رسلؑ قرینہ ہائے ادب و احترام کے نذرانے لیے ایک صف میں ایستادہ جس کی اقتداء میں بارگاہ رب العزت میں سر بہ سجود ہونے کے لیے بے چین رہتے ہوں، جو انبیائؑ کی کہکشاں میں مثل آفتاب جگمگا رہا ہو، جو خاتم کونین کا رخشندہ نگیں ہو۔ جبیں ایمان جس کے دم سے تابندگی پاتی ہو، رخسار یقین جس ذات اطہر سے رخشندگی حاصل کرتی ہو۔ جو ارتفاع و ارتقاء میں ماضی و حال و مستقبل کی قیود زمان و مکان سے لاریب ماوریٰ نظر آتا ہو۔ جس کے نقش کف پا کی تلاش و جستجو میں عالم انسانیت توکیا، عالم بالا کے مکین بھی سرگرداں نظر آتے ہوں۔ جس کے دریائے محبت کی موجوں نے صحراؤں اور ریگ زاروں کو سیراب کر دیا ہو۔ جس کے سحاب کرم نے باد سموم کی بے رحم طغیانیوں کو ہوائے فرحت میں بدل دیا ہو، ہر لسان العصر کا ندرت خیال جس کے جمال سے مہمیز حاصل کرتا ہو۔ جس کے ذکر خیر سے اہل قلب و نظر کے قلم کی نواؤں کو تازگی حاصل ہوتی ہو، چاند اپنی منزلیں طے کرتے ہوئے جس پر دُرود بھیجتا ہو، افق کی سرخی جس کے لب مبارک کا صدقہ اتارتی ہو، جس کے حُسن و جمال کی تصویر کھینچنے کی لیے اہل فن کا تخیل استعاروں اور کنایات کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہو۔

دُرود اس کے لیے ہے، سلام اس کے لیے

کہ جس کے نُور سے گھرگھر چراغ جلتا ہے

ملی ہیں مجھ کو وہ کرنیں حضورؐ کے در سے

کہ جن کو دیکھ لے سورج تو رخ پلٹتا ہے

اس ذات گرامیؐ کی سیرت طیبہ کے بیان کے لیے ہر دور کے فصحا و فضلائے فن شرف نیازکیشی حاصل کرتے رہے ہیں، مگر کوئی پیکر بلاغت یہ دعویٰ نہیں کرسکا کہ میں نے اس بحر ذخائر سے تمام گہر ہائے تاب دار سمیٹ لیے ہیں۔ ہر کوئی عالم خستگی میں بس یہی کہتا نظر آیا:

دامان نگاہ تنگ و گل حُسن تو بسیار

گُل چین تو از تنگی داماں گلہ دارد

اپنا تبصرہ بھیجیں