خشیت ِالٰہی – ایکسپریس اردو

 ’’مومن تو وہی ہیں کہ جب ان کے سامنے اﷲ کا ذکر ہوتا تو ان کے دل اس کی عظمت و جلالت اور خشیت سے کانپ اٹھتے ہیں۔‘‘ فوٹو: فائل

’’مومن تو وہی ہیں کہ جب ان کے سامنے اﷲ کا ذکر ہوتا تو ان کے دل اس کی عظمت و جلالت اور خشیت سے کانپ اٹھتے ہیں۔‘‘ فوٹو: فائل

عبادت کے لغوی معنی تعظیم کی غرض سے عاجزی اختیار کرنا ہے۔ عبادت کا تعلق ہمارے دل، زبان اور ہمارے اعضاء سے ہے۔

اسلام میں عبادت ہر اس عمل کو کہتے ہیں جو ہم رضائے الہی کے لیے کرتے ہیں۔ عبادات کی ساری اقسام زبانی، مالی و جسمانی سب صرف اللہ رب العالمین کے لیے مختص ہیں۔ ان عبادات میں روزہ، نماز، حج، زکوۃ اور دوسرے کئی ایسے عوامل پر دل و جان سے عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے جن کی تعلیم ہمارے نبی کریم ﷺ نے دی ہے۔ جیسے کہ امانت داری، زبان و قول کی پاس داری، اچھے کاموں کی ترغیب، بُرے کاموں سے روکنا، اللہ رب العالمین کی دی گئی نعمتوں کا شکر ادا کرنا۔ جو کام اللہ کی خوش نودی و رضا کے لیے کیا جائے اس میں تقویٰ، اخلاص اور خشیت الٰہی کا شامل ہونا نہایت ضروری ہے۔

جو انسان اپنے اندر خشیت الٰہی پیدا کرتا ہے۔ اخلاص اور اس کے تقویٰ کا معیار اسے اللہ رب العالمین کے اور زیادہ قریب کردیتا ہے۔ یہ وہ اعمال ہیں کہ جن کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حکم دیا ہے۔ سب سے زیادہ جنت میں لے جانے والا عمل تقویٰ ہے۔ اس لیے ہر معاملے میں تقوی اختیار کریں۔ خشیت و تقوی کے لغوی معنی کسی چیز سے دور رہنا ہے اور اسلامی لحاظ سے ہر اس کام سے خود کو باز رکھنا ہے جو اللہ کی ناپسندیدگی کا سبب بنے، تقویٰ اور خشیت الٰہی کہلاتا ہے۔ تقوی و خشیت الٰہی کی خوبی انسان کو اللہ کے بہت زیادہ قریب کر دیتی ہے۔

سورہ آل عمران میں اللہ رب العالمین فرماتے ہیں، مفہوم: ’’ اے ایمان والو! دل میں اللہ کا ویسا ہی خوف رکھو، جیسا خوف رکھنا اس کا حق ہے۔‘‘ سورہ النساء میں فرمایا، مفہوم: ’’ہم تم سے پہلے اہل کتاب کو بھی اور تمہیں بھی یہی تاکید کرتے ہیں کہ اللہ سے ڈرو۔‘‘ سورہ الطلاق میں فرمایا، مفہوم: ’’ اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا، اللہ اس کے لیے مشکل سے نکلنے کا راستہ پیدا کر دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا کرے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوگا، بے شک اس رب زوالجلال کا ڈر دنیا و آخرت میں کام یابی کا ضامن ہے اور ہر ڈر سے نجات دلانے والا ہے۔ ایک اور مقام پر فرمایا، مفہوم: ’’اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تمہیں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی بصیرت عطا فرما دے گا اور تم سے تمہاری برائیاں دُور کر دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے۔‘‘

ہماری عبادت میں اگر خشیت و تقوی شامل رہے تو ہم ہر برائی سے دُور کردیے جاتے ہیں۔ اللہ رب العالمین کے فرمان کا مفہوم ہے : ’’ اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو ایک خاص امتیاز عطا فرمائے گا اور تمہارے گناہ تم سے دور کر دے گا اور تمہاری مغفرت فرمائے گا۔‘‘ ایک اور مقام پر فرمایا، جس کا مفہوم یہ ہے کہ: ’’مومن تو وہی ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر ہوتا تو ان کے دل اس کی عظمت و جلالت اور خشیت سے کانپ اٹھتے ہیں۔‘‘

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے، مفہوم: ’’اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت کا، پرہیزگاری (تقویٰ) کا، پاک دامنی کا اور لوگوں سے بے نیازی کا سوال کرتا ہوں۔‘‘

جس کے دل میں اللہ کا خوف ہو وہ انسان کبھی کسی گناہ کا مرتکب نہیں ہوتا۔ وہ اپنی زندگی کو خالص اللہ کی عبادت کے لیے وقف کرتا ہے۔ اپنی عبادت کو دنیاوی دکھاوے یا ریاکاری سے پاک رکھتا ہے۔ فرمان ربانی کا مفہوم ہے: ’’اور انہیں حکم دیا گیا تھا کہ اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں۔‘‘ ایک اور جگہ فرمایا گیا جس کا مفہوم ہے: ’’ کہہ دو کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں خلوص (نیّت) کے ساتھ اللہ کی عبادت کروں۔‘‘

ان آیت کریمہ کی روشنی میں واضح ہوگیا کہ کس بھی عبادت کے لیے نیّت کا خالص ہونا کتنا ضروری ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں نبی آخرالزماں ﷺ کا فرمان ہے کہ اعمال کا انحصار نیّت پر ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہر عمل کے لیے نیّت کا صاف اور خالص ہونا انتہائی ضروری ہے۔ جب نیّت ہی صاف نہیں ہوگی تو یقینا ہمیں وہ قرب الٰہی نہیں ملے گا، جس کی تمنا ہر مومن کے دل میں ہوتی ہے۔

حدیث مبارک کا مفہوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ایک شخص کو اللہ عزوجل نے مال و علم عطا کیا ہوتا ہے، وہ اپنے مال سے خرچ کرتا اور علم سے فائدہ دیتا ہے اور وہ دوسرا شخص وہ ہوتا جس کے پاس یہ دونوں چیزیں نہیں ہوتیں تو وہ کہتا ہے کاش اللہ نے مجھے دیا ہوتا میں بھی اس طرح خرچ کرتا تو اللہ تعالیٰ اس کی نیّت کے حساب سے اسے وہ اجر عطا کرتا ہے۔‘‘ صرف خالص نیّت کرنے سے ہی انسان کو وہ اجر عظیم مل جاتا ہے۔

صحیح بخاری و مسلم کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک اللہ تمہاری صورتوں اور حالتوں کو نہیں دیکھتا، بل کہ وہ صرف تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔‘‘ یہاں دلوں سے مراد انسان کی نیّت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک جگہ ارشاد فرمایا ہے: ’’جس نے کسی نیکی کا ارادہ کیا اور کسی وجہ سے اس کو پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچا سکا تو اس کے لیے نیکی لکھ دی جائے گی۔‘‘

انسان کی پیدائش بھی اللہ رب العالمین کی عبادت کے لیے کی گئی اور کوئی بھی عبادت تقویٰ، اخلاص اور خشیت الٰہی کے بغیر نامکمل ہے۔

اللہ رب العالمین ہم سب کو تقویٰ، اخلاص و خشیت الٰہی کے ساتھ عبادت کرنے کی توفیق عطا کرے۔ آمین، یارب العالمین

اپنا تبصرہ بھیجیں