کوچۂ سخن – ایکسپریس اردو

کہتے ہیں جذبات کو تصور، تصور کو الفاظ مل جائیں تو شعر تخلیق ہوتا ہے۔ فوٹو: فائل

کہتے ہیں جذبات کو تصور، تصور کو الفاظ مل جائیں تو شعر تخلیق ہوتا ہے۔ فوٹو: فائل

غزل


حَسین لڑکی! تمھارے رستے میں اک دیوانہ پڑا رہے گا
وہ گر خدا کی طرف گیا تو شراب خانہ پڑا رہے گا
تماش بینو! تمھیں خبر ہے؟ کہ خیمہ گاہِ عدو کے آگے
تمھاری آنکھیں پڑی رہیں گی ہمارا لاشہ پڑا رہے گا
یہ لوگ مجھ کو بتا رہے ہیں کہ صبر کرنے میں بہتری ہے
یہ لوگ اٹھ کر چلے گئے تو فقط دلاسہ پڑا رہے گا
ہماری غزلوں کو لوگ شب بھر پڑھا کریں گے یقین مانو
تمھارے بچے کی ڈائری میں بھی اک ترانہ پڑا رہے گا
اسے بتانا کہ ایک شاعر سے روٹھنے کی سزا یہی ہے
تمھارے دل میں غزل رہے گی یا اک خلاصہ پڑا رہے گا
تمھیں یہ اکثر بتا چکا ہوں کہ گھر سے تھوڑا سا پڑھ کے آنا
تمھیں سکھانے کو بیٹھ جاؤں تو میرا پرچہ پڑا رہے گا
تم ابنِ مہدی یہ مت بتانا کہ سانحہ کس طرح سے ہوگا
فقط یہ پرچی پہ لکھ کے آنا کہ ’’اک جنازہ پڑا رہے گا‘‘
(شہزاد مہدی۔ اسکردو، گلگت بلتستان)

۔۔۔
غزل


چوٹ چلتے میں لگی پیٹھ پہ آوازہ لگا
تو اِسی بات سے حالات کا اندازہ لگا
زردیاں آنکھ سے آنگن میں اتر آئی ہیں
گھر ہمیں گھر نہ لگا خطۂ خمیازہ لگا
خواب کی محل سرا اپنی زمیں بوس ہوئی
عالمِ ہست کا بکھرا ہوا شیرازہ لگا
شام دہکا دے وہ رخسار گھڑی بھر کے لیے
خمِ عارض پہ کرن وار کے پھر غازہ لگا
ایک تارے سے کرن آتے وہ تاخیر ہوئی
خلد سے آدمِ خاکی کا سفر تازہ لگا
ایک پتھر نے مری خاک پہ دستک دی تھی
کاش ہوتا جو تہِ خاک میں دروازہ لگا
(حسن کیفی، جھنگ)

۔۔۔
غزل


جب تک میں ترے ذکر پہ مائل نہیں ہوتا
پھر خود سے مرا رابطہ اے دل نہیں ہوتا
اب خوف مجھے اپنے جنوں سے نہیں کوئی
جس دل میں ترا عشق ہو باطل نہیں ہوتا
آہٹ کوئی سنتا ہوں میں دروازے پہ اکثر
کھولوں جو اگر دَر کو تو سائل نہیں ہوتا
آتے ہو کبھی یاد تو جی اٹھتا ہوں پھر سے
دل تیرے بنا جینے کو قائل نہیں ہوتا
تب تک یہ مری ذات مکمل نہیں ہوتی
جب تک تو مری ذات میں شامل نہیں ہوتا
ہر خواب کی تعبیر تجھے مل نہیں سکتی
ہر خواب تو تعبیر کے قابل نہیں ہوتا
الجھا ہوں ابھی ذات کی تسکین میں عازم ؔ
دل ہے کہ تری یاد سے غافل نہیں ہوتا
(عبدالسلام عازم۔ اٹک)

۔۔۔
غزل

دعا یہ وحشت سے جاں چھڑانے کی اتنی مانگی کہ رٹ گئی ہے
نجات وحشت سے مل گئی پر، دعا لبوں سے لپٹ گئی ہے
یقین دھیانی اگر تُو چاہے تو آئینے کو گواہ کر لے
میں اب بھی اتنی ہی خوبرو ہوں، تری توجہ ہی بٹ گئی ہے
ہے یاد چودہ کا چاند دیکھا تو تم نے اس کو کہا محبت
میں اس پہ ایمان لے کے آئی کہ گھٹتے گھٹتے وہ گھٹ گئی ہے
کوئی تو سمجھے ہمارے غم کو،کوئی تو سمجھے ہمارا رونا
جو اک نگہہ ہم پہ اٹھ گئی تھی، وہ راستے سے پلٹ گئی ہے
طویل عرصے سے خود فریبی، ہمارے قدموں کو روکتی تھی
نہیں ہے اب ٹھوکروں کا خدشہ، جو دھند تھی ساری چھٹ گئی ہے
ابھی تو ہم ہیں تمہیں میسر، ابھی تو تم بھی ہو دسترس میں
تو پھر نہ جانے کیوں لگ رہا ہے، زمین مرکز سے ہٹ گئی ہے
(ثروت مختار۔ بھکر)

۔۔۔
غزل


یہ تسلی، یہ دلاسہ، یہ سہارا ناٹک
کتنا پیارا ہے میرے یار تمہارا ناٹک
درد سہنے کی اذیت سے گزاریں تم کو
ہم بھی دکھلائیں کسی روز کرارا ناٹک
بند کر دیجیے بندوں کو ملانا رب سے
بند کر دیجیے اب اپنا خدارا ناٹک
ایک جیسے ہیں ترے اور مرے غم جاناں
ایک جیسا ہے ترا اور ہمارا ناٹک
اس کی آنکھوں سے گرے اشک تو موتی ہو جائیں
میری آنکھوں سے چھلکتا ہوا تارا ناٹک
ہم اداکار تو چلتے تھے ہدایت لے کر
اپنی مرضی سے کہاں ہم نے گزارا ناٹک
یہ تو ہم ہیں جو تمیں سَر پہ چڑھا رکھا ہے
ورنہ کس کو ہے مری جان گوارا ناٹک
انگلیاں کس کی ہیں عارفؔ جو نچاتی ہیں ہمیں
خود سمجھ آیا نہیں ہم کو ہمارا ناٹک
(عارف نظیر، کراچی)

۔۔۔
غزل


لاکھ بہتر ہے کہ کٹ جائے جھکایا ہوا سَر
مان میرا ہے یہ شانوں پہ سجایا ہوا سَر
اتنا مجبور نہ کر ساری حقیقت کہہ دے
کب سے الزام پہ چپ ہے یہ ستایا ہوا سَر
یہ سیاست ہے یہاں دل نہیں سر ہوتا ہے
خود مٹاتے ہیں یہاں آپ بنایا ہوا سر
جلد بازی میں کہاں خوفِ خدا رہتا ہے
ہوش کھو دے نہ کہیں جوش میں آیا ہوا سَر
فلسفہ حق کا مٹانا نہیں ممکن اے غنیم
کتنے لوگوں میں بٹا ایک مٹایا ہوا سَر
(عامر مُعان، کوئٹہ)

۔۔۔
’’مصلحت‘‘


بچھڑنے والے
اپنے حصے کے خواب لے کر
تم تو موجِ ہوا ہوئے ہو
جدا ہوئے ہو
مگر میں کب سے
گزشتہ لمحوں کی راکھ میں گُم
اپنی صدیوں کو چُن رہا ہوں
میں سُن رہا ہوں
ہوائیں، پربت، پہاڑ، پنچھی
دشائیں مجھ سے یہ کہہ رہی ہیں
سلگتی سانسوں کی سسکیوں میں
بکھرتے لمحوں کے تار بُنتے
گزرتے دن کی پکار سنتے
کسی نظم سے اداس لڑکے!!
ہماری مانو تو مان لو تم
گزشتہ رُت کے تمام ہی دُکھ
جو اپنے دل سے
نچوڑ دو گے تو خوش رہو گے
عذاب بَنتی تمام یادوں کے
تلخ دھاگوں کو
توڑ دو گے تو خوش رہو گے
بھٹکتے رہنے کی خواہشوں کو
جو چھوڑ دو گے تو خوش رہو گے!!
(محمد احمد لنگاہ، عارف والا۔ پنجاب)

۔۔۔
غزل


میں تو سمجھا تھا کوئی بوڑھا شجر بیچا ہے
کیا خبر تھی کہ پرندوں کا نگر بیچا ہے
حال مت پوچھ مرے فاقہ زدہ لوگوں کا
آنکھ بیچی تو کہیں نورِ نظر بیچا ہے
جانے کیسی تھی وہ مجبوری کہ ماں نے اپنا
چند سِکوں کے عوض لختِ جگر بیچا ہے
دوست حیدر کے ملنگوں کی کرامات تو دیکھ
اپنے ہاتھوں سے بنا خُلد میں گھر بیچا ہے
ایسے حالات بھی دیکھے ہیں مسرتؔ میں نے
پہلے بانٹا تھا مگر اب کے ہنر بیچا ہے
(مسرت عباس ندرالوی۔ چکوال)

۔۔۔۔
غزل


شام ہو شام پُر بہار بھی ہو
کوئی ہو اور اس سے پیار بھی ہو
مسکرا کر وہی ملے جس کو
مسکرانے کا اختیار بھی ہو
ائے وہ جس کے جانے کا دکھ ہو
آئے وہ جس کا انتظار بھی ہو
ہم جسے جان و دل سے اب چاہیں
کچھ تو اس کا اب اعتبار بھی ہو
اب ترا پیار مجھ سے کہتا ہے
اب ذرا خون میں فشار بھی ہو
(احسان فارس۔ جھنگ)

۔۔۔
غزل


حق اپنی محبت کا ادا کون کرے گا
جب ہم نہ رہیں گے تو وفا کون کرے گا
خوش ہوکے درختوں کی طرف دیکھنے والو
پنجروں سے پرندوں کو رہا کون کرے گا
اِس بار محبت تو مجھے خود سے ہوئی ہے
ایسے میں مجھے مجھ سے جدا کون کرے گا
مجنوں پہ سبھی سنگ اٹھائے تو کھڑے ہیں
معلوم نہیں پہلے خطا کون کرے گا
جب اپنا یہاں کوئی بھی واقف نہیں عاشیؔ
اِس شہر میں پھر ہم کو صدا کون کرے گا
(عائشہ شیخ عاشی۔ بہاولپور)

۔۔۔
غزل


دکھا دکھایا ہوا سوچنے لگے ہیں دوست
میں سوچتا تھا نیا سوچنے لگے ہیں دوست
اب آسمان کی وسعت کا تذکرہ چھیڑو
زمیں کو اچھا بھلا سوچنے لگے ہیں دوست
انہیں پتا نہیں معیارِ آدمی کیا ہے
ہر آدمی کا برا سوچنے لگے ہیں دوست
سراغ روشنی کا ڈھونڈ ہی نکالیں گے
سیاہ بخت دِیا سوچنے لگے ہیں دوست
ہم اپنے عہد کے شاعر ہیں مرسلہ ہمیں کیا
ہمارے بارے میں کیا سوچنے لگے ہیں دوست
(عثمان مرسل، گوجرانوالہ)

۔۔۔
غزل


یاد ہیں مجھ کو وہ پَل جو کَل گزارے ساتھ تھے
اِس لیے بھی یاد ہیں کہ تُم ہمارے ساتھ تھے
شہر میں آئے تھے تو اِک ڈَر سا دِل میں تھا کہیں
ڈر جہاں پر تھا وہیں کچھ لوگ پیارے ساتھ تھے
شہر کے دِل کش سے میلے میں بھی تَاریکی رہی
ایسا لگتا ہے وہاں پر کالے سائے ساتھ تھے
بچپنے میں اِس لیے بھی خوش بہت ہوتے تھے ہم
دوڑتے تھے جب بھی ہم تو چاند تارے ساتھ تھے
دوریوں میں زندگی اب کاٹ کر کٹتی نہیں
پہلے کَٹ جاتی تھی اچھی جب تمہارے ساتھ تھے
اِس لیے بھی شہر میں ہم ٹِک نہیں پائے علیؔ
بَخت کے مارے ہوئے کچھ شہر زادے ساتھ تھے
(ذمران علی، گوجرانوالہ)

۔۔۔
غزل
آیتِ صبر پڑھی سینہ کشادہ کیا ہے
منزلِ عشق پہ رہنے کا اعادہ کیا ہے
جس کے وعدے پہ ہم اک عمر گزارے ہوئے تھے
پھر اسی وعدہ فراموش نے وعدہ کیا ہے
پہلے تو خود کو اندھیرے کی اذیت سے نکال
روشنی چھونے کا گر تُو نے ارادہ کیا ہے
عمر بھر مردہ روابط میں یہاں سانسیں بھریں
دل کی وسعت سے بھی یہ کام زیادہ کیا ہے
خود کو برباد جو کرنا تھا سو ہم نے طارق ؔ
بس محبت کو یہاں اپنا لبادہ کیا ہے
(طارق جاوید، کبیر والا)

۔۔۔
غزل


زندگی! تُو ہی بتا مجھ کو یہ مرنا کیا ہے؟
تری لیلیٰ کا یہ مجنون پہ جینا کیا ہے
کوئی پوچھے تو سہی ہم ہی بتائیں گے اسے
چشمِ محبوب سے یوں نیند کا جانا کیا ہے
ہم نے بچپن میں کھلونے بھی بہت کھوئے ہیں
ہم کو شاید نہیں معلوم کہ پانا کیا ہے
ایک ہم کو تو محبت کا سلیقہ بھی نہ تھا
ایک تم کو بھی نہ آیا کہ نبھانا کیا ہے
مرے کانوں میں مری خانہ بدوشی نے کہا
جب ترا گھر ہی نہیں، لوٹ کے آنا کیا ہے
دل تو مرحوم ہوا مجھ کو بتا جانِ کمال
اب ترا اگلا ہدف اگلا نشانہ کیا ہے
(مبشر آخوندی۔ اسکردو)

کہتے ہیں جذبات کو تصور، تصور کو الفاظ مل جائیں تو شعر تخلیق ہوتا ہے اور یہ صفحہ آپ کے جذبات سے آراستہ تخلیقات سے سجایا جارہا ہے۔ آپ اپنی نظم، غزل مع تصویر ہمیں درج ذیل پتے پر ارسال کر سکتے ہیں۔ معیاری تخلیقات اس صفحے کی زینت بنیں گی۔
صفحہ ’’کوچۂ سخن‘‘
روزنامہ ایکسپریس (سنڈے میگزین)،5 ایکسپریس وے، کورنگی روڈ، کراچی
[email protected]

اپنا تبصرہ بھیجیں