سائنس دانوں نے بلیک ہول ’’دیکھ‘‘ لیا ہے… کیا واقعی؟

انسانی تاریخ کی اہم ترین دریافتوں میں سے ایک بلیک ہولز کی ’’اولین تصویر‘‘ کے حوالے سے حقائق بیان کرتی تحریر

انسانی تاریخ کی اہم ترین دریافتوں میں سے ایک بلیک ہولز کی ’’اولین تصویر‘‘ کے حوالے سے حقائق بیان کرتی تحریر

جب تک یہ سطریں آپ کی نظر سے گزریں گی، تب تک ماہرینِ فلکیات کی عالمی ٹیم اپنی ایک اہم دریافت کا اعلان کرچکی ہوگی، جو شاید انسانی تاریخ کی اہم ترین دریافتوں میں سے ایک ہو۔ تاہم اس وقت (مؤرخہ 5 اپریل 2019ء کے) روز جب کہ میں یہ مضمون قلم بند کررہا ہوں۔

عالمی میڈیا میں خبر گرم ہے کہ ماہرینِ فلکیات کی ایک عالمی ٹیم نے بلیک ہولز کی ’’اوّلین تصویر‘‘ حاصل کرلی ہے، جسے وہ 10 اپریل کو ایک بین الاقوامی پریس کانفرنس میں دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔ یہی خبر اس انداز میں بھی پیش کی جارہی ہے کہ ماہرینِ فلکیات نے پہلی بار بلیک ہول ’’دیکھ‘‘ لیا ہے۔

کیا واقعی ایسا ہے؟ کیا واقعی سائنس دانوں نے بلیک ہول کو ’’دیکھ‘‘ لیا ہے؟ یہ کوئی سچی خبر ہے یا پھر ہمیں اپریل فول بنایا جارہا ہے؟ یہ جاننے کے لیے ہمیں ان سائنسی نظریات سے واقفیت حاصل کرنا ہوگی جو کسی ستارے میں مادّے کی مقدار (یعنی اس ستارے کی کمیت)، ستارے کی زندگی اور موت سے تعلق رکھتے ہیں۔

ہمارا سورج بھی ایک ستارہ ہے جو ہائیڈروجن کو ہیلیم اور دوسرے عناصر میں تبدیل کرکے زبردست توانائی خارج کرتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر سورج نہ ہوتا تو زمین پر زندگی کا وجود بھی ناممکن ہوتا۔ خیر، یہ ایک الگ موضوع ہے۔ سورج آج سے تقریباً پانچ ارب سال پہلے وجود میں آیا؛ لیکن یہ ایک اوسط درجے کا، عام سا ستارہ ہے جو مزید پانچ ارب سال تک اسی طرح روشن رہ پائے گا۔ یعنی اس کی عمر لگ بھگ دس ارب سال ہوگی۔ سورج جتنی کمیت والے ستاروں کی عمر تقریباً اتنی ہی ہوتی ہے کیوںکہ وہ بڑی آہستگی سے اپنا نیوکلیائی ایندھن (ہائیڈروجن اور ہیلیم) پھونکتے ہیں۔

البتہ، وہ ستارے جن کی کمیت سورج سے زیادہ ہوتی ہے، وہ بہت فضول خرچ ہوتے ہیں اور اپنا ایندھن بہت کم وقت میں، صرف چند کروڑ سال میں پھونک ڈالتے ہیں۔ ایسے ستاروں کا انجام بھی بہت بھیانک ہوتا ہے: ان میں سے کوئی سپرنووا کی صورت میں پھٹ پڑتا ہے اور اپنے مادّے کا بڑا حصہ خلاء میں دور دور تک بکھیرنے کے بعد ’’نیوٹرون ستارہ‘‘ بن جاتا ہے؛ تو کوئی سکڑتے سکڑتے اتنا مختصر ہوجاتا ہے کہ ’’بلیک ہول‘‘ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

بلیک ہولز (Black Holes) وہ مردہ ستارے ہوتے ہیں جن کی کمیت ہمارے سورج کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہوتی ہے، جب کہ ان کی کششِ ثقل (Gravity) اتنی شدید ہوتی ہے کہ وہاں سے کوئی چیز بھی فرار نہیں ہوسکتی… روشنی بھی نہیں۔

اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر آپ چاند کی سطح پر ہوں اور چاند کی کششِ ثقل سے فرار ہونا چاہیں تو آپ کو 2.38 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سیدھا اوپر اٹھنا ہوگا۔ سائنس کی زبان میں اس رفتار کو ’’رفتارِ فرار‘‘ (Escape Velocity ) کہا جاتا ہے۔

زمین کے لیے رفتارِ فرار اس سے بہت زیادہ، یعنی 11.2 کلومیٹر فی سیکنڈ ہے، کیوںکہ زمین کی کمیت بھی چاند کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ مریخ کی کمیت، ہماری زمین سے کچھ کم ہے لہٰذا مریخ کے لیے رفتارِِفرار صرف 5 کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔ نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری (جیوپیٹر) کے لیے فراری رفتار کا تخمینہ 59.3 کلومیٹر فی سیکنڈ لگایا گیا ہے۔

ہمارے سورج کی کمیت، مشتری سے بھی کئی گنا زیادہ ہے اس لیے سورج کی سطح (کرونا) سے فرار ہونے کے لیے 617.7 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار درکار ہوگی… یعنی سورج کی کششِ ثقل کو شکست دے کر وہاں سے فرار ہونے کے لیے کسی وجود کو ہر سیکنڈ میں کم از کم 617.7 کلومیٹر کی رفتار سے (سورج کے مخالف سمت میں) حرکت کرنا ہوگی۔ اب آئیے بلیک ہولز کی طرف۔

آئن اسٹائن کے نظریہ اضافیت کے مطابق، کائنات کی سب سے تیزرفتار شئے ’’روشنی‘‘ ہے؛ یعنی کوئی بھی چیز، چاہے مادّی ہو یا غیرمادّی، روشنی سے زیادہ رفتار پر حرکت نہیں کرسکتی (جب کہ خلاء میں روشنی کی رفتار 300,000 کلومیٹر فی سیکنڈ ہے جو کائنات میں رفتار کی انتہائی حد بھی قرار دی جاتی ہے)۔ یعنی اگر بلیک ہول سے روشنی فرار نہیں ہوسکتی، تو پھر کوئی بھی چیز وہاں سے فرار نہیں ہوسکتی۔ اب چوںکہ کسی بھی چیز کو ’’دیکھنے‘‘ کا انحصار، اس سے ہم تک پہنچنے والی ’’روشنی‘‘ پر ہوتا ہے، اور بلیک ہول سے کسی قسم کی کوئی روشنی تک خارج نہیں ہوسکتی، تو اصولی طور پر ہم بلیک ہول کو ’’دیکھ‘‘ نہیں سکتے۔

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ’’روشنی‘‘ (Light) کا شمار برقناطیسی شعاعوں (الیکٹرو میگنیٹک ریڈی ایشنز) میں ہوتا ہے؛ اور اس قسم کی شعاعوں میں روشنی کے علاوہ انفرا ریڈ، الٹرا وائیلٹ، ریڈیو لہریں، ایکسریز اور گیما شعاعیں تک شامل ہیں۔

امید ہے کہ یہاں تک بات واضح ہوگئی ہوگی۔

البتہ، بلیک ہول کی شدید کششِ ثقل کے یہ اثرات اس کے ارد گرد ایک مخصوص علاقے تک محدود ہوتے ہیں جسے ’’واقعاتی افق‘‘ (Event Horizon) کہا جاتا ہے۔ قدرے آسان الفاظ استعمال کیے جائیں تو واقعاتی افق کو ہم بلیک ہول کی ’’سرحد‘‘ سمجھ سکتے ہیں۔ واقعاتی افق سے دور جاتے ہوئے، بلیک ہول کی کششِ ثقل بتدریج کم ہوتی چلی جاتی ہے؛ اس لیے کسی بلیک ہول سے دور دراز مقامات پر موجود اجسام پر اس کشش کے اثرات بھی اتنے معمولی ہوتے ہیں کہ انہیں بہ مشکل ہی محسوس کیا جاسکتا ہے۔

لیکن بلیک ہول کی اسی ’’سرحد‘‘ پر بہت کچھ ہورہا ہوتا ہے۔ وہ اجسام (مثلاً گرد اور گیس کے وسیع و عریض بادل وغیرہ) جو کسی بلیک ہول کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں، وہ جیسے جیسے واقعاتی افق کے قریب پہنچتے ہیں ان کی رفتار بڑھنا شروع ہوجاتی ہے اور وہ بلیک ہول کے گرد ’’مرغولہ نما‘‘ (Spiral) راستے پر چکر لگاتے ہوئے، واقعاتی افق سے قریب تر ہونے لگتے ہیں۔ ہر چکر میں ان کی رفتار مزید بڑھ جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ عین واقعاتی افق پر پہنچ جاتے ہیں۔

زبردست رفتار کی وجہ سے ان اجسام کی اپنی توانائی بھی بہت زیادہ ہوجاتی ہے اور ان سے (روشنی سمیت) مختلف اقسام کی شعاعیں (ریڈی ایشن) خارج ہونے لگتی ہیں… اور جیسے ہی وہ واقعاتی افق سے بلیک ہول کے اندر گرنے لگتے ہیں ٹھیک اسی وقت، زبردست ایکسریز خارج کرتے ہوئے، وہ بلیک ہول میں ہمیشہ کے لیے گم ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرینِ فلکیات ان ایکسریز کو ’’بلیک ہول میں گرتے ہوئے مادّے کی آخری چیخ‘‘ بھی کہتے ہیں۔ اس بات کی تصدیق ’’سائگنس ایکس ون‘‘ (cygnus x-1) نامی دوہرے (ثنائی) ستارے کے تفصیلی مشاہدے سے ہوچکی ہے۔ ستاروں کے اس نظام میں ایک چھوٹا ستارہ ہے جس سے اٹھتی ہوئی گیس، قریب ہی واقع ایک نادیدہ مقام کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے… اور غائب ہوتی جارہی ہے۔ البتہ، غائب ہوتے وقت اس سے شدید ایکسریز بھی خارج ہورہی ہیں۔

اگر ’’سائنس کے باخبر ذرائع‘‘ کی بات کریں، تو ماہرین فلکیات کی بین الاقوامی ٹیم اعلان یہ ہے کہ انہوں نے بلیک ہول میں گرتے ہوئے مادّے سے خارج ہونے والی شعاعوں کی مدد سے ’’واقعاتی اُفق‘‘ کی نہایت مفصل اور واضح عکاسی کرلی ہے۔

اسی حوالے سے دوسری بات یہ بھی کہی جارہی ہے کہ مذکورہ دریافت کا تعلق ہماری اپنی ’’ملکی وے کہکشاں‘‘ کے مرکز میں موجود ایک بہت ہی بڑے یعنی ’’فوق ضخیم‘‘ (Supermassive) بلیک ہول سے ہے۔ اندازہ ہے کہ اس بلیک ہول کی کمیت، ہمارے سورج کے مقابلے میں تقریباً 45 لاکھ گنا زیادہ ہے جب کہ (زمین سے دیکھنے پر) یہ ’’برجِ قوس‘‘ میں نظر آتا ہے۔ اس لیے اس کا نام بھی ’’قوس الف نجمہ‘‘ (Sagittarius A-Star) رکھا گیا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ دراصل یہ ریڈیو شعاعوں کا ایک منبع (source) ہے۔

بلیک ہول پر تحقیق کی غرض سے جاری عالمی منصوبے ’’ایونٹ ہورائزن ٹیلی اسکوپ‘‘ (EHT) میں دنیا بھر سے 12 مقامات پر سیکڑوں طاقت ور فلکیاتی دوربینیں، ایک ساتھ مربوط انداز سے، شریک ہیں۔ خیال ہے کہ ای ایچ ٹی سے وابستہ ماہرین نے ہماری ملکی وے کہکشاں کے مرکز میں موجود بلیک ہول کے ’’واقعاتی افق‘‘ کی مفصل اور کام یاب منظر کشی کرلی ہے۔ کچھ خبروں سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ شاید اس واقعاتی افق کی ساخت کسی ڈونٹ (Doughnut) یا چھید والی باقر خانی جیسی ہوتی ہے۔

اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ ہماری ملکی وے کہکشاں کے مرکز میں سورج سے 45 لاکھ گنا زیادہ کمیت والے بلیک ہول سے وابستہ واقعاتی افق کا تفصیلی مشاہدہ کوئی معمولی بات ہے تو واضح رہے کہ یہ کوئی عام بلیک ہولز نہیں ہوتے۔ کسی ستارے سے بننے والے بلیک ہولز کے بارے میں خاصے اعتماد کے ساتھ ہم بہت کچھ جان چکے ہیں، لیکن ’’سپر میسیو بلیک ہولز‘‘ کا معاملہ ابھی تک معما بنا ہوا ہے۔

ناقابلِ یقین کمیت رکھنے والے ان سپر میسیو بلیک ہولز کے بارے میں ہم اب تک جو کچھ جان پائے ہیں، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اب تک کئی کہکشاؤں کے مرکزوں میں ایسے بلیک ہولز دریافت ہوچکے ہیں جہاں سے غیرمعمولی ایکسریز کے علاوہ کئی اقسام کی ریڈیو شعاعوں کا اخراج بھی ہورہا ہے۔ اسی شدید اخراج کی وجہ سے انہیں ’’سرگرم کہکشانی مرکزے‘‘ (Active Galactic Nuclei) یا مختصراً ’’اے جی این‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ خیال ہے کہ کہکشاؤں کے ارتقاء میں ان ہی بلیک ہولز نے کلیدی کردار ادا کیا ہوگا۔ لیکن یہ سپر میسیو بلیک ہولز کیسے وجود میں آئے؟ اس بارے میں فی الحال وثوق سے ہم کچھ نہیں جانتے۔

بعض حالیہ مفروضات کے تحت یہ خیال ضرور پیش کیا گیا ہے کہ شاید یہ بلیک ہولز، کائنات کے ابتدائی دور میں مادّے کی غیرمتوازن تقسیم کے نتیجے میں بنے ہوں گے جنہوں نے بعدازاں کہکشاؤں کے وجود میں آنے اور ارتقاء پذیر ہونے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ تاہم ان مفروضات کے حق میں ہمارے پاس کوئی ثبوت موجود نہیں۔

البتہ، ملکی وے کہکشاں کے مرکز میں موجود سپر میسیو بلیک ہول سے متصل واقعاتی افق کا تفصیلی مشاہدہ ہمیں ان مفروضات کے درست یا غلط ہونے کے بارے میں کسی حتمی نتیجے پر پہنچ سکیں۔ اعلان چاہے کچھ بھی ہو، یہ ذہن نشین رکھیے کہ سائنس دانوں نے بلیک ہول کی کوئی ’’تصویر‘‘ حاصل نہیں کی ہے بلکہ وہ بلیک ہول سے وابستہ ’’واقعاتی افق‘‘ کا مفصل ترین مشاہدہ کرکے اس کی باریک ترین جزئیات معلوم کرنے میں کام یاب ہوگئے ہیں… اور یقین مانیے کہ ہگز بوسون اور ثقلی لہروں کے بعد، یہ موجودہ صدی کی تیسری اہم ترین دریافت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں