دیسی ساختہ بم اور دھماکہ خیز مواد کا سراغ لگانے کا نیا طریقہ دریافت

کنگز کالج لندن اور نارتھ امبریا یونیورسٹی کے ماہرین نے کروماٹوگرافی اور اسپیکٹرواسکوپی کے ذریعے دھماکہ خیز مواد کا سراغ لگانے کی کوشش کی ہے۔ فوٹو: فائل

کنگز کالج لندن اور نارتھ امبریا یونیورسٹی کے ماہرین نے کروماٹوگرافی اور اسپیکٹرواسکوپی کے ذریعے دھماکہ خیز مواد کا سراغ لگانے کی کوشش کی ہے۔ فوٹو: فائل

 لندن: بم دھماکوں کے بعد تفتیشی افسران کے لیے سب سے بڑا چیلنج دیسی ساختہ بم اور دھماکہ خیز مواد کے ماخذ کا پتا لگانا ہوتا ہے۔ اس ضمن میں برطانوی ماہرین نے بم دھماکے اور بارود کا سراغ لگانے کا ایک بالکل نیا طریقہ دریافت کیا ہے۔

کنگزکالج لندن اور نارتھ امبریا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر ایک ٹیکنالوجی وضع کی ہے جس میں آئن کروماٹوگرافی استعمال کی گئی ہے جسے ماس اسپیکٹرواسکوپی کی ایک قسم کہا جاتا ہے۔ اس کی تفصیل اینا لیٹکا چائمیکا ایکٹا میں شائع ہوئی ہے۔

اس ٹیکنالوجی کے ذریعے بارود کی معمولی مقدار میں بھی موجود کئی اجزا کا پتا لگایا جاسکتا ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں گھریلو اور دیسی ساختہ بم کئی وارداتوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس پر کام کرنے والے ڈاکٹر میٹیو گیلیڈابائنو کہتے ہیں کہ اب تک واقعات میں استعمال ہونے والے بارود کی معمولی مقدار کو نوٹ کرنا بہت مشکل تھا لیکن اب اصل مجرم کے پسینے کی بھی شناخت کی جاسکتی ہے۔ یہاں تک کہ گولی کے معمولی ذرات کو دیکھ کر بھی بارود کا پتا لگایا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹرگیلیڈابائنو کے مطابق یہ طریقہ بہت تیزرفتار، مؤثر اور کم خرچ ہے جس میں ڈیٹا کا بھرپور جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس طرح بم دھماکے اور کسی بھی واردات سے دھماکہ خیز مواد کا سراغ لگاسکتے ہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں گھریلو اور دیسی ساختہ بم کئی وارداتوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس پر کام کرنے والے ڈاکٹر میٹیو گیلیڈابائنو کہتے ہیں کہ اب تک واقعات میں استعمال ہونے والے بارود کی معمولی مقدار کو نوٹ کرنا بہت مشکل تھا لیکن اب اصل مجرم کے پسینے کی بھی شناخت کی جاسکتی ہے۔ یہاں تک کہ گولی کے معمولی ذرات کو دیکھ کر بھی بارود کا پتا لگایا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹرگیلیڈابائنو کے مطابق یہ طریقہ بہت تیزرفتار، مؤثر اور کم خرچ ہے جس میں ڈیٹا کا بھرپور جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس طرح بم دھماکے اور کسی بھی واردات سے دھماکہ خیز مواد کا سراغ لگاسکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں