شیر خوار قتل کیس: ہم پر براہ راست فائرنگ کی گئی، والدین

گتھی سلجھانے کیلیے رکشہ ڈرائیور اورپولیس کو اطلاع دینے والے کا سامنے آنا ضروری ہے۔ فوٹو:ایکسپریس

گتھی سلجھانے کیلیے رکشہ ڈرائیور اورپولیس کو اطلاع دینے والے کا سامنے آنا ضروری ہے۔ فوٹو:ایکسپریس

کراچی: مقتول احسن کے والدین نے تحقیقاتی کمیٹی کے رکن کو بیان میں بتایاہے کہ واقعے کے وقت ایک فائر نہیں بلکہ کئی فائر ہوئے ہیں اور ان پر براہ راست فائرنگ کی گئی۔

تحقیقاتی کمیٹی کے رکن کا کہنا ہے کہ ابھی والدین کا موقف سامنے آیا ہے مزید شواہد اور پولیس اہلکاروں کے بیانات قلم بند کیے جاناباقی ہے، تحقیقاتی کمیٹی کے رکن سے اپیل ہے کہ واقعے کی گتھی سلجھانے کے لیے رکشہ ڈرائیور اور اس شخص کا سامنے آنا ضروری ہے جس نے پولیس کو ڈاکوؤں کی موجودگی کی اطلاع دی۔

منگل کی شب سچل تھانے کے علاقے یونیورسٹی روڈ صفورا چورنگی کے قریب پولیس اہلکاروں کی مبینہ فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے 20 ماہ کے شیرخوارمحمد احسن ولد کاشف کے قتل کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عبداللہ شیخ کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیٹی کے رکن ایس ایس پی ساؤتھ پیرمحمد شاہ نے جمعرات کوفائرنگ کے مقام اور اس جگہ کا دورہ کیا جہاں سے پولیس اہلکاروں نے شہری کی اطلاع پر ڈاکوؤں کا تعاقب شروع کیا تھا۔

تحقیقاتی کمیٹی کے رکن مقتول احسن کے گھر بھی گئے جہاں انھوں نے مقتول کے اہلخانہ سے ملاقات کی۔ مقتول کے اہلخانہ نے بتایا کہ ان کے ساتھ بہت زیادتی اور ظلم ہوا ہے انصاف فراہم کیا جائے۔ تحقیقاتی کمیٹی کے رکن نے مقتول احسن کے اہل خانہ سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک ملاقات کی۔

ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ایس ایس پی ساؤتھ پیر محمد شاہ نے کہا کہ وہ میڈیا کے توسط سے اپیل کرتے ہیں کہ رکشہ ڈرائیور اورجس شخص نے پولیس اہلکاروں کو ڈاکوؤں کی اطلاع دی وہ سامنے آئے اور بتائے کہ ہوا کیا تھا۔ مقتول محمد احسن کے دادا نے کہاکہ وہ تفتیش سے مطمئن ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں