پرانے طریقے سے چلنے والا پاکستان کنگال ہو گیاتھا، فرسودہ نظام ختم کر کے تبدیلی لائیں گے،عمران خان کااعلان

کوئٹہ (اے این این ) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پرانے طریقے سے چلنے والا پاکستان کنگال ہو گیاتھا،فرسودہ نظام ختم کر کے تبدیلی لائیں گے،بلوچستان ترقی کرے گا تو پاکستان آگے بڑھے گا، ماضی میں بلوچستان میں سیاست صرف الیکشن جیتنے کیلئے کی جاتی رہی ،سابق وزراء اعظم نے بلوچستان کے کم اور لندن کے زیادہ دورے کئے ہیں ، ہم اپنے پرانے قرضوں پر صرف سود 6 ارب روپے دے رہے ہیں۔ہمارا منصوبہ ہے کہ ہم فوج اور صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر بلوچستان میں ایک کینسر کا ہسپتال قائم کریں،سی پیک ایک گیم
چینجر منصوبہ ہے جو بلوچستان کو نہ صرف پورے پاکستان سے ملائے گا ، تمام پسماندہ علاقوں کو بھی جوڑے گا ۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے بلوچستان میں ژوب ڈبل کیرج وے اور بلوچستان ہیلتھ کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے ۔اپنے دورہ بلوچستان کے دوران وزیر اعظم عمران خان کوئٹہ پہنچے، جہاں گورنر اور وزیر اعلی بلوچستان نے ان کا استقبال کیا۔ جس کے بعد وزیر اعظم عمران خان  گورنر،وزیر اعلی بلوچستان اور اہم وفاقی وزرا کے ہمراہ کوئٹہ کینٹ پہنچے، جہاں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آرمی ایوی ایشن بیس پر ان کا استقبال کیا۔بعد ازاں وزیر اعظم نے ژوب ڈبل کیرج وے اور بلوچستان ہیلتھ کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھا، اس دوران بلوچستان کی صوبائی قیادت اور آرمی چیف بھی موجود تھے۔اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بلوچستان خوش قسمت ہے کہ انہیں جام کمال جیسا وزیر اعلی ملا، وزیراعلی بلوچستان کے دل میں عوام کا درد ہے یہ پاکستان میں تبدیلی کی سوچ ہے اور پرانے طریقوں سے چلنے والا پاکستان آگے نہیں جاسکتا،پرانے طریقے سے چلنے والا پاکستان کنگال ہو گیا تھا۔ملک تباہی کی طرف جا رہا تھا، پاکستان کو فرسودہ نظام سے نکال کر تبدیلی لائیں گے، نئے پاکستان کی سوچ، تبدیلی کی سوچ ہے۔ملک مقروض ہونے سے بنیادی سہولتوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا ہم اپنے پرانے قرضوں پر صرف سود 6 ارب روپے دے رہے ہیں، ملک جس طرح چل رہا تھا وہ تبادہی کی طرف جارہا تھا۔ایک کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملکوں کو کس طرح مقروض کیا جاتا اس کتاب میں بتایا گیا ہے۔جس طرح اشرافیہ کو خریدا جاتا اسے کرپٹ کیا جاتا اور ملک کا پیسا باہر لے جایا جاتا ہے ۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ریاست کا کام عوام کو تحفظ، تعلیم، پانی، صحت، روزگار فراہم کرنا ہے اور یہ ہر شہری کے بنیادی حقوق ہے جبکہ بلوچستان کا ایک خصوصی معاملہ ہے ماضی میں یہاں سیاست صرف الیکشن جیتنے کیلئے کی جاتی رہی ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے سابق وزرا ء اعظم نے 5 سال کے دوران بلوچستان سے زیادہ لندن کے دورے کیے کیونکہ یہ اقتدار میں آنے کے لیے بلوچستان کی ضرورت نہیں ہوتی۔یہاں صرف انتخابات کا سوچا جاتا لوگوں سے اتحاد کرلیا جاتا اور جو رقم عوام کو ملنی تھی وہ انہیں ملا ہی نہیں۔اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں لوگ 2 چیزوں سے زیادہ مرتے ہیں، ایک امراض قلب اور دوسرا کینسر، بلوچستان میں کوئی امراض قلب کا ادارہ نہیں تھا اور لوگوں کو کراچی جانا پڑتا تھا لیکن میں آرمی چیف کا مشکور ہوں کہ انہوں نے یو اے ای سے رابطے کے ذریعے اس ادارے کے لیے فنڈنگ کی۔انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا ہونا بہت ضروری تھا، اس کے لیے پاک فوج اور صوبائی حکومت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، اس منصوبے سے یہ میڈیکل سٹی بن جائے گا اور ہمارا منصوبہ ہے کہ ہم فوج اور صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر ایک کینسر کا ہسپتال قائم کریں۔پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ خوشی ہے کہ 305 کلو میٹر کے مغربی روٹ کا سنگ بنیاد رکھا گیا، یہ کوئٹہ سے ژوب 305 کلو میٹر ہے۔یہ منصوبہ  ایک گیم چینجر ہے یہ بلوچستان کو نہ صرف پورے پاکستان سے ملائے گا بلکہ تمام پسماندہ علاقوں کو بھی جوڑے گا، ہمیں مغربی روٹ کو پہلے بنانا چاہیے تھا کیونکہ چین کے لیے سی پیک کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ان کا مغربی حصہ پیچھے رہ گیا تھا لہذا ہمیں بھی کوشش کرنی چاہیے تھی کہ مغربی روٹ کو پہلے بنائیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے ساتھ بڑی تبدیلیاں آئیں گی، اس کے علاوہ ہم منصوبہ بندی  کر رہے ہیں کہ کوئٹہ سے تافتان ایران تک ایک ریلوے ٹریک بنے اور وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید اس سلسلے میں بات کر رہے ہیں۔کوئٹہ کے ماسٹر پلان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام شہروں کا ماسٹر پلان نہیں ہے، جب تک ماسٹر پلان نہیں ہوگا شہریوں کو سہولیات فراہم نہیں ہوسکیں گی۔اپنی بات چیت جاری رکھتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے لوگوں کو سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اقلیت رہ جائیں گے، اس کا سب سے بڑا حل یہ ہے کہ یہاں تربیتی ادارے ہوں اور مقامی لوگوں کی صلاحیتوں کو نکھارا جاسکے۔بلوچستان کی ترقی کے بارے میں عمران خان نے کہا کہ یہاں ایک مضبوط بلدیاتی حکومتی نظام لانا ہوگا۔اس کے لیے پنجاب اور پختونخوا کی طرز کا بلدیاتی نظام لانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت اگلے الیکشن جیتنے کے لیے نہیں آئی، بلوچستان ترقی کرے گا تو پاکستان کی ترقی ہوگی اور یہ آگے بڑھے گا۔

loading…

اپنا تبصرہ بھیجیں