قابل رشک صحت اور لمبی عمر کیسے حاصل ہو؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ روزانہ چہل قدمی، شکرگزاری اور خوش رہنے کی عادات آپ کی زندگی کو طویل بنائے رکھنے میں یقیناً اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

آئیں! آج صحت مند زندگی گزارنے کے کچھ حقیقی رازوں سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ صحت کی دنیا میں کئی روشن اور کئی تاریک پہلو بیک وقت نمایاں رہتے ہیں جن کی وجہ سے ہم تذبذب کا شکار ہوجاتے ہیں کہ صحت مند رہنے کے لیے کیا مفید ہے اور کیا نقصان دہ؟آئے روز طبی تحقیقات کے ذریعے ایسے نئے نئے امراض کا انکشاف ہوتا رہتا ہے جو آپ کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ صرف اپنا رہن سہن کا انداز بدلنے سے آپ زیادہ تر جان لیوا بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے بین الاقوامی ادارہ صحت کے مطابق فالج، ذیابیطس اور حرکتِ قلب بند ہونے کے 80 فیصد واقعات اور کینسر کے40 فیصد واقعات ایسے ہوتے ہیں جنھیں بہترین حفاظتی اقدامات کے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے آپ کو کچھ زیادہ تردد کرنے کی ضرورت نہیں، آپ صرف چند ایسی صحت مندانہ سرگرمیوں کو اختیار کرکے اپنی زندگی کو طویل بنا سکتے ہیں، یہ سرگرمیاں دراصل دنیا کے صحت مند ترین لوگوں کی زندگیوں کا نچوڑ ہیں۔ یوں طرز زندگی میں تھوڑی سی تبدیلی کرنے سے آپ بہترین صحت مند زندگی سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔

وہ اپنے دوستوں کے ساتھ زیادہوقت گزارتے ہیں

اچھی صحت کے لیے ایک بہترین اور نہایت دلچسپ کام کریں، آپ اپنے اہل خانہ اور دوستوں پر مشتمل ایک معاشرتی فعال گروپ بنائیں۔ ڈاکٹروں اور محققین کے مطابق طویل صحت مند زندگی بسر کرنے والے افراد معاشرتی طور پر فعال ہوتے ہیں۔ تنہائی نہ صرف اذیت ناک امر ہے بلکہ یہ جان کا روگ بھی بن جاتی ہے۔ ایک اور تحقیق کے مطابق پریشانی اور افسردگی میں سگریٹ پینے کے بجائے کسی دوست یا ہم خیال کے ساتھ ہواخوری کرنا اور بات کرنا زیادہ سکون آور ہے۔ اگر آپ ایک مضبوط اور مثبت معاشرتی حلقہ احباب سے محروم ہیں تو آج سے ہی ان صحت مندانہ سرگرمیوں کو اپناتے ہوئے اپنا حلقہ احباب بنائیے۔

وہ سگریٹ نوشی نہیں کرتے

اگر آپ نے ابھی تک سگریٹ نوشی ترک نہیں کی تو ابھی ترک کردیجئے۔ ’امریکی قومی ادارہ برائے صحت‘ کی رپورٹ کے مطابق سگریٹ نوشی ترک کرنا صحت مند زندگی گزارنے کے پانچ بہترین کاموں میں سے ایک ہے۔ سگریٹ نوشی بہت سے ممالک میں قانونی طور پر جائز ہے مگر تمباکو نوشی بہرحال انسانی جان کی دشمن ہے اور اس سے پرہیز ہی بہترین عادت ہے۔ امریکہ میں پھیپھڑوں کے امراض سے متعلق ڈاکٹروں کی رپورٹ کے مطابق تمباکو نوشی کے علاوہ ہیروئن اور دیگر دھواں دار نشے بھی پھیپھڑوں کو ناکارہ بنا دیتے ہیں۔ آسان اور مختصر الفاظ میں بات سمجھنا چاہیں تو ایک کام کریں کہ تازہ ہوا کے علاوہ اپنے اندر کوئی نشہ آور یا مضر دھواں پھیپھڑوں تک مت پہنچائیں۔

وہ کبھی کبھار فاقہ ضرور کرتے ہیں

فاقہ کرنے سے صحت کو فائدہ پہنچتا ہے، باقاعدگی سے ماہانہ یا ہفتہ وار فاقہ کرنے سے صحت اچھی ہوتی ہے اور بیمار ہونے کے خطرات کم ہوتے ہیں۔ فاقہ کرنے والے افراد نہ صرف لمبی زندگی بسر کرتے ہیں بلکہ جسمانی طور پر بھی اپنے ہم عمر افراد کے مقابلے میں زیادہ جوان لگتے ہیں۔ آپ کو احساس محرومی کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ آپ بھی ایک معینہ مدت کے مطابق 12 سے 24 گھنٹے کے دورانیے پر مشتمل فاقہ کرکے خود کو صحت مند رکھ سکتے ہیں۔ اس طرح آپ کا جسم زیادہ کیلوریز کو استعمال کرنے کا عادی ہوگا اور آپ کو بھوک بھی نہیں لگے گی۔ عام فہم انداز میں کہا جائے تو جسم میں موجود کیلوریز کو جسم استعمال کرکے ان سے فائدہ تو حاصل کرے گا مگر آپ کو بھوک نہیں لگے گی۔

وہ تقریباً روزانہ ورزش کرتے ہیں

اخبار پڑھنے والے یا انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کو لیے یہ خبر نئی نہیں ہوگی کہ ورزش کرنا صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ ’امریکی قومی ادارہ برائے صحت‘ کی تحقیق کے مطابق جو لوگ زیادہ فعال اور ورزشی سرگرمیوں میں وقت گزارتے ہیں وہ دیگر سست افراد (زیادہ وقت بستر اور صوفہ پر گزارنے والے) کے مقابلے میں زیادہ لمبی عمر پاتے ہیں۔ آپ کو جنونی انداز میں ہر وقت جِم میں ورزش کرنے اور بہت زیادہ دوڑ لگانے کی قطعی ضرورت نہیں۔ آپ اپنی گلی میں کچھ دیر چہل قدمی کرلیں یا دوستوں کے ساتھ ٹینس کھیل لیں یا اپنے پالتو جانور کو ٹہلا نے لے جائیں یا باغبانی کرلیا کریں یا ہلکی پھلکی کوہ پیمائی کرلیں یا ہفتہ وار چھٹی کے دن بائیسکل پر سواری کرلیں۔ ان میں کوئی سی بھی عادت اختیارکرلیں۔

دیگر لحمیات کے مقابلے میں زیادہ مچھلی کھاتے ہیں

’اکادمی برائے غذائیات‘ کے مطابق سالمن مچھلی اور سارڈین نامی مچھلی میں اومیگا تھری نامی موجود عنصر کے صحت مندانہ فوائد چونکا دینے والے ہیں۔ باقاعدگی سے مچھلی کھانے سے بیماریوں بالخصوص امراضِ قلب اور ذیابیطس جیسے موذی مرض کے لاحق ہونے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ سب سے زیادہ صحت مند افراد ہفتے میں کم از کم ایک بار مچھلی ضرورکھاتے ہیں، نیز جو لوگ سرخ گوشت کم کھاتے ہیں وہ بھی صحت مند رہتے ہیں۔

وہ پریشانیوں کو سر پر سوار نہیں کرتے

چھوٹی چھوٹی پریشانیوں کو سر پر سوار کر لینا صحت مند سرگرمی نہیں ہے۔ مستقل پریشان اور دباؤ میں رہنے سے امراض قلب، ذیابیطس ، کینسر اور ذہنی امراض لاحق ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی تحقیق بتاتی ہے کہ اس سے نہ صرف کئی امراض لاحق ہوتے ہیں بلکہ زندگی کا دورانیہ بھی کم ہوجاتا ہے۔ گوکہ کئی پریشانیوں کا حل آسان نہیں ہوتا مگر صحت مند افراد روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی پریشانیوں سے نبردآزما ہونے کا ہنر سیکھ جاتے ہیں۔

وہ بامقصد زندگی گزارتے ہیں

بلیو زون سٹڈی نامی تحقیقاتی پروگرام کے تحت جب لمبی صحت مند زندگی گزارنے والے افراد کی عادات و طرز زندگی کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ مختلف مذاہب اور مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے طویل العمر افراد میں ایک بات مشترک تھی کہ وہ سب بامقصد زندگی گزارنے کے فلسفہ پر یقین رکھتے تھے۔ جو لوگ اپنی زندگی کو کسی مقصد کے تحت گزارنے پر عمل پیرا ہوتے ہیں وہ عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ لمبی عمر پاتے ہیں۔ اپنے لیے کوئی بڑا مقصد چن لیں اور اْس کے تحت زندگی گزاریں۔

نشہ آور مشروبات کا کم سے کم استعمال کرتے ہیں

گو کہ الکوحل والے مشروبات پینے یا نہ پینے کے بارے میں سائنسی مفروضات تشکیک پر مبنی ہیں مگر یہ بات کہ روزانہ ایسے مشروب کی کچھ مقدار استعمال کرنے سے ممکن ہے کہ دل کے امراض سے بچا جا سکے۔ یہ بات مشکوک ہوسکتی ہے مگر یہ بات برحق ہے کہ روزانہ الکوحلک مشروبات کا استعمال کینسر لاحق ہونے کے خطرات کو بڑھاتا ہے۔

ان کا جسمانی وزن مناسب حد تک برقرار رہتا ہے

’امریکی قومی ادارہ برائے صحت‘ کے مطابق جسمانی وزن کا عمر کے لحاظ سے مقرر کردہ معیار تک رہنا ہی صحت مندی ہے۔ میڈیکل ریسرچ کے مطابق جو وزن کا چارٹ عمر اور جنس کے لحاظ سے مقرر کیا گیا ہے اس حد سے آگے بڑھنا بیماریوں کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ حتی کہ مقررہ معیار سے بھی اگر دس سے پندرہ فیصد کم وزن کرلیتے ہیں تو بہترین زندگی سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔

سبزیوں کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں

بلیو زون سٹڈی کے مطابق مختلف صحت مند معاشروں میں رنگارنگ اقسام کے کھانے کھائے جاتے ہیں مگر ایک چیز سب میں مشترک ہے کہ وہ سبزی کھاتے ہیں اور بے شمار کھاتے ہیں۔ صحت مند ترین افراد کی کھانے کی پلیٹ ہمیشہ زیادہ سے زیادہ پھلوں، سبزیوں ، اناج اور دالوں سے بھری ہوگی۔  ’امریکی قومی ادارہ برائے صحت‘ کے مطابق اپنی خوراک میں زیادہ سے زیادہ سبزیاں شامل کرنا بیماریوں سے حفاظت کی طرف صحیح قدم اٹھانا ہے۔ نیز سبزیوں کے زیادہ استعمال سے ذہنی نشوونما میں اضافہ ہوتا ہے۔

وہ دن کا کچھ وقت پرسکون اورخاموش ماحول میں گزارتے ہیں

ڈاکٹر سمانتھا جو کہ ایک مستند تجربہ کار ڈاکٹر ہیں، خصوصاً وہ فطری طریقہ ہائے علاج سے لوگوں کا نفسیاتی علاج کرنے میں ماہر ہیں،کا کہنا ہے کہ آج کی شور سے بھرپور زندگی میں روزانہ کچھ دیر کے لیے کسی پرسکون جگہ پر خاموشی سے لطف اندوز ہونا صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ اس سے ذہنی تھکن ختم ہوتی ہے، اختلاج قلب اور دیگر پریشان کن امراض سے بچے رہنے کی طاقت ملتی ہے۔ ڈاکٹر سمانتھا کہتی ہیں کہ اگر آپ کوئی عبادت بھی کرنا چاہیں تو مکمل پرسکون اور خاموشی والے ماحول میں کریں یا کسی خاموش جگہ بیٹھ کر گہرے سانس لے کر روحانی سکون حاصل کریں۔

وہ فطری ماحول میں وقت گزارنےکے عادی ہوتے ہیں

صحت مندانہ سرگرمیاں کرانے والے ایک مخصوص پروگرام میں’غسل جنگل‘ نامی ایک سرگرمی بہت کثرت سے کروائی جاتی ہے۔ اس میں لوگوں کو فطرت سے لطف اندوز ہونے کے لیے جنگل میں لے جایا جاتا ہے۔ فطری ماحول میں صحت پر مفید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق جنگل کے فطری ماحول میں وقت گزارنے سے ہمارے ہارمونز پر اچھا اثر پڑتا ہے، دل کی دھڑکن متوازن ہوتی ہے، خون کا بہاؤ مناسب انداز میں ہونے لگتا ہے اور طبیعت پر اچھا اثر پڑتا ہے۔

وہ رات کوجلدی سوتے ہیں

اچھی صحت کے لیے کم از کم آٹھ گھنٹے سونا چاہیے۔ اس سے جسم فعال رہتا ہے، وزن کم ہوتا ہے اور صحت اچھی رہتی ہے۔ رات کو دیر تک جاگنے سے جسم آرام دہ کیفیت میں نہیں رہتا اور بھوک لگتی ہے جس سے بندہ غیر متوازن غذا رات کے پچھلے پہر استعمال کرنے کا عادی ہوجاتا ہے اور جسم کے اندر خلیے بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگتے ہیں ، پیٹ بڑھنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس جب آپ آدھی رات ہونے سے پہلے ہی سوجاتے ہیں تو آدھی رات سے پہلے نیند کا ہر گھنٹہ دو گھنٹوں کے برابر آرام پہنچاتا ہے۔

سوشل میڈیا کا کم استعمال کرتے ہیں

’ذہنی دباؤ اور پریشانی‘ کے عنوان سے ایک تحقیق کی گئی جس کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ آپ جتنا زیادہ وقت سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں اتنا ہی آپ کی طبعیت میں سے خوشی کا عنصر کم ہوتا جاتا ہے۔ دوستوں کی تصویریں اور سرگرمیاں دیکھ دیکھ کر آپ کو احساس کمتری ہونے لگتا ہے، آپ اپنا تقابل دوسروں سے کرنے کے عادی ہوکر اپنی خوشی بھول جاتے ہیں، ہر وقت اداسی اور پریشانی کا شکار رہنے لگتے ہیں، اچھی صحت کے مالک افراد سوشل میڈیا پر محدود وقت گزارتے ہیں اور حقیقی زندگی میں اپنے پیاروں کو زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ یہ تو ممکن ہے کہ آپ چند سالگرہ کے پیغامات اور نئے بچوں کی پیدائش کے اعلان سے محروم رہ جائیں مگر یقین کریں کہ آپ سوشل میڈیا سے دور رہ کر زیادہ خوش اور صحت مند رہیں گے۔

وہ کسی بھی ذریعے سے دوسروں کی مدد کرتے ہیں

ہماری زندگی کا کیا فائدہ اگر ہم کسی دوسرے کی زندگی میں آسانی نہ لاسکیں!صحت مند لوگ باقاعدگی سے اپنا وقت نکال کر دوسروں کی خدمت کرتے ہیں، عطیات وغیرہ بھی دے کر دوسروں کو سکون پہنچاتے ہیں۔ رضاکارانہ طور پر، بلا معاوضہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ اس طرح یہ لوگ زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں اور بہترین صحت مند زندگی سے بھرپور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ دوسروں کی مدد کرنے سے آپ دراصل اپنی مدد کرتے ہیں، لوگوں کی مدد کرتے ہوئے آپ مددگار معاونین کا ایک گروپ تیار کرلیتے ہیں جس کے ارکان آپ کی بھی مدد کے لیے بڑھ چڑھ کر اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں۔

دنیا میں بہترین صحت مند افرادبچوں والے ہوتے ہیں

جن لوگوں کا کم از کم ایک بچہ یا زیادہ بچے ہوںگے، وہ بے اولاد افراد کے مقابلے میں دو سال زیادہ جیتے ہیں۔ آپ اگر یہ سوچ رہے ہیں کہ والدین کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں ،وہ معاشی تنگی کا شکار رہتے ہیں، کم سوتے ہیں اور بے اولاد لوگوں کے برعکس اولاد والے زیادہ جلدی بیماری کا شکار بھی ہوجاتے ہیں تو آپ کا خیال غلط نہیں ہے مگر جو بات آپ نظر انداز کرگئے وہ یہ ہے کہ بچے چھوٹے ہوں تو والدین کو زیادہ کام کرنے پڑتے مگر جب بچے بڑے ہوتے ہیں تو وہ والدین کا ہاتھ بٹاتے ہیں، انھیں محبت کے ساتھ معاشی اور جسمانی راحت پہنچاتے ہیں۔

وہ حاصل ہونے والی نعمتوں پر شکرگزار رہتے ہیں

صحت مند ترین افراد میں ایک اور اہم عادت یہ ہوتی ہے کہ وہ حاصل شدہ نعمتوں پر شکرگزار رہتے ہیں، دوسروں کے بارے میں مثبت اور اچھا سوچتے ہیں۔ ہارورڈ میڈیکل سکول کے محققین کہتے ہیں کہ دنیا میں اچھا دیکھنا اور لوگوں کی اچھی باتوں کو توجہ دینا نہ صرف آپ کو پْرمسرت کرے گا بلکہ آپ کی صحت پر بھی مثبت اثر ڈالے گا۔ سائنس کی تجویز یہی ہے کہ پُرامید رہنا اور اپنے حال پر خوش رہنا آپ کو ذہنی اور جسمانی بیماریوں سے دور رکھتا ہے۔ محققین کے مطابق ایک پرامید شخص زندگی کو مثبت انداز سے گزارتا ہے اور اس کی صحت زیادہ عرصہ تک بیماریوں سے محفوظ رہتی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں