سعودی عرب میں قید انسانی حقوق کیلیے کام کرنے والی 3 خواتین کارکن رہا

ان خواتین کو دیگر 8 خواتین کے ہمراہ گزشتہ برس 5 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ فوٹو : فائل

ان خواتین کو دیگر 8 خواتین کے ہمراہ گزشتہ برس 5 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ فوٹو : فائل

ریاض: سعودی عرب میں 5 سال قید کی سزا کاٹنے والی انسانی حقوق کی 3 خاتون کارکنان کو رہا کردیا گیا ہے جب کہ دیگر خواتین کی رہائی اتوار تک متوقع ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم خواتین کارکنان ایمان الفجان، عزیزہ الیوسف اور رقیہ المحارب کو عارضی طور پر رہا کردیا گیا ہے، ان خواتین کو گزشتہ برس مئی میں حراست میں لیا گیا تھا، ریاست مخالف سرگرمیوں اور غیر ملکیوں سے روابط رکھنے کے الزام میں 5 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل اور برطانیہ میں قائم سعودی انسانی حقوق کی تنظیم اے ایل کیو ایس ٹی نے 3 خواتین کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سزا یافتہ خواتین کارکنان کو عارضی طور پر رہائی دی گئی ہے جب کہ دیگر 8 خواتین کو بھی اتوار تک رہا کردیا جائے گا۔ ان 11 خواتین کو ملک کے سائبر قوانین کے تحت سزا دی گئی تھی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خواتین کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رہائی مستقل ہونی چاہیے۔ سعودی عرب میں اسیر میں سعودی نژاد امریکی کارکن ثمر بداوی بھی شامل ہیں جو بلاگر رعف بداوی کی بہن ہیں، رعف بداوی کو توہین اسلام پر 2014 میں 10 سال قید اور 1000 کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں